بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شوال 1443ھ 21 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

قطروں کی بیماری والے شخص کے لیے امامت چھوڑنے کا حکم


سوال

میں گاؤں کی مسجد میں امام ہوں اور پانچ وقت نماز پڑھاتا ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ پیشاب کے بعد آٹھ سے دس منٹ پیشاب کے قطرے آتے ہیں، جن کو مسلسل خشک کرنے کے بعد جب اندازہ ہوتا ہے کہ اب قطرے نہیں آرہے تو احتیاطًا اس جگہ ٹشو وغیرہ رکھتا ہوں اور نماز کے وقت سے تقریبًا ایک گھنٹہ قبل قضاءِ حاجت وغیرہ سے فراغت حاصل کرتا ہوں،پھر نماز سے دس پندرہ منٹ پہلے استنجا اور  وضو کرکے اس وضو سے دو یا تین نماز پڑھاتا ہوں، اگر پیشاب وغیرہ کی حاجت ہو تو اسی طرح نماز سے گھنٹہ، پون گھنٹہ پہلے فارغ ہو کر مذکورہ بالا عمل دہراتا ہوں،مسلسل یا استنجا کے بعد قطرے نہیں آتے ، چاہے جتنا وقت گزر جائے، مثلًا ظہر کے وضو سے عشاء تک نماز درمیان میں پیشاب کیے بغیر پڑھا لوں تو قطروں کا مسئلہ نہیں ہوتا،مسئلہ صرف پیشاب کے متصل بعد قطرے آنے کا ہے تو کیا میں شرعی معذور ہوں؛ تاکہ امامت چھوڑ دوں یا پھر مذکورہ طریقہ سے امامت جاری رکھوں؟ نیز آسانی سے دوسرا امام بھی ملنا مشکل ہے۔

جواب

بصورتِ مسئولہ جب پیشاب کے بعد قطروں میں مقدارِ نماز کے برابر تسلسل نہیں ہے یعنی کچھ دیر تک پیشاب کے قطرے آنے کے بعد بند ہوجاتے ہیں یا درمیان میں اتنا وقفہ ہوجاتا ہے کہ جس میں دو تین فرض نماز ادا کی جاسکتی ہیں تو سائل شرعًا معذور  نہیں ہے، لہذا سائل کے لیے جائز ہے کہ  نماز سے کافی پہلے ہی پیشاب کر کے فارغ ہوجائے، اس کے بعد پیشاب کے قطروں کے خارج ہونے تک انتظار کرے، پھر جب قطرے بند ہوجائیں اور  اطمینان حاصل ہوجائے تو اس کے بعد وضو کرکے نماز پڑھےاور ظہر کے وضو سے عشاء تک  درمیان میں پیشاب کیے بغیر نماز پڑھے،مذکورہ طریقے کے مطابق نماز پڑھانے کی صورت میں سائل امامت جاری  رکھ سکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله حتى لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت وصلت ثم خرج الوقت ودخل وقت صلاة أخرى وانقطع دمها فيه أعادت تلك الصلاة لعدم الاستيعاب، وإن لم ينقطع في وقت الصلاة الثانية حتى خرج لا تعيدها لوجود استيعاب الوقت، وشرط بقائه أن لا يمضي عليه وقت فرض إلا والحدث الذي ابتلي به يوجد فيه هكذا في التبيين."

(کتاب الطهارۃ، ج:1، ص:40، ط:مکتبه رشیدیه)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144212202023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں