بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قصاب کا ذبح کے بعد گوشت لینا


سوال

بسا اوقات دیکھا گیاہے کہ قصاب اپنی مرضی سے خاص جگہ کا گوشت لیتے ہیں، اپنے استعمال کیلئے گوشت مانگنے کی اجازت کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں اگر کوئی دینے سے انکار کریں  تو جواب میں کہتے ہیں یہ ہمارا حق ہے شرعی طور پر قصاب کا یہ الفاظ کہنے کہاں تک درست ہے اور یہ بھی بتادیں کہ قصاب کا گوشت کیلئے سوال کرنا کہاں تک درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بطور اجرت قصاب کو گوشت دینا جائز نہیں، البتہ صاحب جانور اپنی مرضی و خوشی سے دینا چاہے تو دے سکتا ہے، تاہم مالک کی اجازت کے بغیر خود ہی سے اپنے لئے گوشت الگ کرلینا قصاب کے لئے جائز نہیں، لہذا قصاب کا گوشت میں اپنا حق ہونے کا دعوی از روئے شرع درست نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وَلَوْ آجَرَ لَا يَجُوزُ وَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِالْأَجْر... وَلَا يَحِلُّ بَيْعُ شَحْمِهَا وَأَطْرَافِهَا وَرَأْسِهَا وَصُوفِهَا وَوَبَرِهَا وَشَعْرِهَا وَلَبَنِهَا الَّذِي يَحْلُبُهُ مِنْهَا بَعْدَ ذَبْحِهَا بِشَيْءٍ، لَا يُمْكِنُ الِانْتِفَاعُ بِهِ إلَّا بِاسْتِهْلَاكِ عَيْنِهِ مِنْ الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ وَالْمَأْكُولَاتِ وَالْمَشْرُوبَاتِ، وَلَا أَنْ يُعْطِيَ أَجْرَ الْجَزَّارِ وَالذَّابِحِ مِنْهَا، فَإِنْ بَاعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ بِمَا ذَكَرْنَا نَفَذَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -، لَا يَنْفُذُ وَيَتَصَدَّقُ بِثَمَنِهِ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ. (كتاب الأضحية، الْبَابُ السَّادِسُ فِي بَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ فِي الْأُضْحِيَّةِ وَالِانْتِفَاعِ بِهَا، ۵ / ۳۰۱، ط: دار الفكر)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام لعلي حيدر میں ہے:

(الْمَادَّةُ 96) :

لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِ الْغَيْرِ بِلَا إذْنِهِ هَذِهِ الْمَادَّةُ مَأْخُوذَةٌ مِنْ الْمَسْأَلَةِ الْفِقْهِيَّةِ (لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ التَّصَرُّفُ فِي مَالِ غَيْرِهِ بِلَا إذْنِهِ وَلَا وِلَايَتِهِ) الْوَارِدَةِ فِي الدُّرِّ الْمُخْتَارِ. (1 / 96، ط: دار الجيل)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200456

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں