بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

قصر یا اتمام کا حکم شہر کی حدود سے نکلنے پر ہوگا


سوال

گھر سے سفر  کے لیے روانہ ہوا،  لیکن  30 کلومیٹر  پر  رکنا پڑا  اور  رات ہوگئی،  اب میں پوری نماز پڑہوں یا قصر؟ سفر ملتان تا کراچی کا ہے!

جواب

واضح رہے کہ جوشخص اپنے شہر یا بستی سے باہر سفر کے ارادے سے  نکلے اور  مسافتِ سفر  کم از کم  48میل (77٫24 یعنی تقریباً  سواستترکلومیٹر)   ہو تو ایسےشخص پراپنے شہر کی آبادی اور حدود سے نکلنے کے بعد   چا رکعت والی فرض نماز میں قصر کرنا لازم ہوجاتا ہے، اور جس جگہ سفر کا ارادہ ہو  اس شہر یا بستی میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو تو وہاں بھی قصر نماز پڑھنا لازم ہوگا۔

لہذا صورتِ  میں مسئولہ میں  اگر  تیس کلومیٹر سفر کے بعد  اپنے شہر کی آبادی کی حدود سے نکلنے کے بعد اگرچہ رکنا  پڑا ہے اور سفر کا ارادہ بھی ملتوی نہیں کیایعنی: سفر ہی کی نیت ہے تو ایسی صورت میں  نمازقصر  پڑھی جائے گی۔ اور اگر اپنے شہر کی حدود سے نکلنے سے پہلے ہی رکنا پڑا، یعنی ابھی اپنے شہر کی حدود ہی میں رکا ہوا ہے تو جب تک شہر کی حدود سے نہ نکلے اس وقت تک اتمام  ہو گا،یعنی: پوری نماز پڑھی جائے گی۔   

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"فإذا قصد مسيرة ثلاثة أيام قصر الصلاة حين تخلف عمران المصر؛ لأنه مادام في المصر فهو ناوي السفر لا مسافر، فإذا جاوز عمران المصر صار مسافرًا لاقتران النية بعمل السفر، والأصل فيه حديث علي - رضي الله تعالى عنه - حين خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه فقال: لو جاوزنا ذلك الخص صلينا ركعتين."

(باب صلاة المسافر، ج: 1، صفحہ: 236، ط: دار المعرفة - بيروت) 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے:

"وأما بيان ما يصير به المقيم مسافرا: فالذي يصير المقيم به مسافرا نية مدة السفر والخروج من عمران المصر فلا بد من اعتبار ثلاثة أشياء: ... والثاني: نية مدة السفر لأن السير قد يكون سفرا وقد لا يكون؛ لأن الإنسان قد يخرج من مصره إلى موضع لإصلاح الضيعة ثم تبدو له حاجة أخرى إلى المجاوزة عنه إلى موضع آخر ليس بينهما مدة سفر ثم وثم إلى أن يقطع مسافة بعيدة أكثر من مدة السفر لا لقصد السفر فلا بد من النية للتمييز، والمعتبر في النية هو نية ... والثالث: الخروج من عمران المصر فلا يصير مسافرا بمجرد نية السفر ما لم يخرج من عمران المصر وأصله ما روي عن علي - رضي الله عنه - أنه لما خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه وقال: لو جاوزنا الخص صلينا ركعتين ولأن النية إنما تعتبر إذا كانت مقارنة للفعل؛ لأن مجرد العزم عفو، وفعل السفر لا يتحقق إلا بعد الخروج من المصر فما لم يخرج لا يتحقق قران النية بالفعل فلايصير مسافرًا."

(کتاب الصلاۃ، فصل بيان ما يصير به المقيم مسافرا، ج: 93 و94 دار الكتب العلمية )

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144208200036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں