بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرضہ کے طلب گار کو قرضہ کے بجائے رکشہ خرید کر قسطوں پر بیچنے کا حکم (بیع عینہ)


سوال

مجھے دس لاکھ روپے چاہیے تھے، میں نے اپنے دوست سے دس لاکھ روپے مانگے تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو پیسے نہیں دے سکتا ہوں، البتہ میں آپ کے لیے پیمنٹ کر دوں گا، وہ مجھے اپنے کسی دوست کی دوکان پر لے گیا، وہاں بہت سے رکشہ کھڑے ہوئے تھے، اس نے میرے لیے 5 رکشے خرید لئے جس کی قیمت دس لاکھ ہوگئی، اس نے وہ رکشے مجھ پر قسطوں پر فروخت کر دیا جس کی قیمت  16 لاکھ ہوگئی، اس نے اپنے دس لاکھ پر چھ لاکھ منافع لیا، اس کو پتہ ہے کہ مجھے ان رکشوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مجھے تو پیسے کی ضرورت ہے اور پیسے وہ مجھے نہیں دے گا، اس لیے میرے لیے پیمنٹ کی، جب تمام معاملات طے ہو گئے تب میں نے وہ پانچ رکشے اس دوکان دار پر فروخت کر دیئے اس دوکان دار نے مجھے 990000 روپے ان رکشوں کی مد میں دے دیئے،  کیا یہ تمام سودا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر قرض پر سود کے لین کے متبادل طریقہ کے طور پر اس طریقہ کو اختیار کیا جائے جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے اور آپ کو رکشہ کی کوئی ضرورت نہ ہو، بلکہ آپ کا اور آپ کے دوست  کا مقصود رکشہ کی خرید و فروخت کے بجائے نقد رقم اور نقد رقم پر منافع کا حصول ہو تو یہ \"بیعِ عینہ\" ہوگی، اور  \"بیعِ عینہ\" کا حکم یہ ہے کہ ایسا معاملہ کرنا مکروہِ تحریمی (ناجائز) ہے،  اور یہ سود کھانے کا قبیح ترین حیلہ ہے، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’ اس قسم کی بیع کا بوجھ میرے دل میں پہاڑ کی مانند ہے، یہ قبیح ترین معاملہ ہے جس کو سود خوروں نے (بطورِ حیلہ ) ایجاد کیا ہے‘‘۔

           حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم \"بیعِ عینہ\"  کرو گے اور گائے کی دموں کے پیچھے پڑجاؤگے اور  زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور  جہاد چھوڑ دوگے  تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ  تم ذلیل ہو جاؤگے اور دشمن تم پر غالب ہو جائے گا۔  ایک اور روایت میں یہ بھی آتا ہے : اللہ تعالیٰ تمہارے بدترین لوگوں کو تم پر مسلط کردیں گے، پھر تمہارے بہترین (نیک) لوگ دعائیں مانگیں گے، لیکن ان کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔  لہٰذا صورت مسئولہ میں بیع عینہ کے طریقے پر مذکورہ سودا کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اس طریقہ کو ترک کرنا لازم ہے، کیونکہ عربی زبان میں ایک قول ہے کہ :’’إياك والعينة؛ فإنها اللعينة.‘‘ یعنی  بیع عینہ سے بچو کیونکہ بیع عینہ باعث لعنت ہے۔

دوسری خرابی مذکورہ طریقہ سے خرید و فروخت کرنے میں یہ بھی ہے کہ ہر خریدار قبضہ کئے بغیر رکشوں کو آگے بیچ رہا ہے، جب کہ حدیث شریف میں قبضہ سے پہلے کسی چیز کو آگے بیچنے سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا قبضہ کئے بغیر کسی منقولی چیز کو آگے بیچنے سے بیع فاسد ہوجاتی ہے۔

سنن أبي داود (3/ 274)

باب في النهي عن العينة : 

حدثنا سليمان بن داود المهري، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حيوة بن شريح، ح وحدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، حدثنا عبد الله بن يحيى البرلسي، حدثنا حيوة بن شريح، عن إسحاق أبي عبد الرحمن، قال سليمان: عن أبي عبد الرحمن الخراساني، أن عطاء الخراساني، حدثه أن نافعا حدثه، عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا تبايعتم بالعينة ، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم»

مسلم شریف میں ہے:

\"عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من ابتاع طعاماً فلايبعه حتى يستوفيه»، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله\".

(کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، ج:۳ ؍۱۱۵۹ ،ط:دار إحیاءالتراث العربي)

وفیه أیضاً :

\"عن ابن عمر، قال: «كنا في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم نبتاع الطعام، فيبعث علينا من يأمرنا بانتقاله من المكان الذي ابتعناه فيه، إلى مكان سواه، قبل أن نبيعه»\". (کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، ج:۳ ؍۱۱۶۰ ،ط:دار إحیاءالتراث العربي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

\"(لا) يصح ... (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه ... والأصل أن كل عوض ملك بعقد ينفسخ بهلاكه قبل قبضه فالتصرف فيه غير جائز ... وفي المواهب: وفسد بيع المنقول قبل قبضه، انتهى. ونفي الصحة يحتملهما ... (قوله: ونفي الصحة) أي الواقع في المتن يحتملهما أي يحتمل البطلان والفساد والظاهر الثاني؛ لأن علة الفساد الغرر كما مر مع وجود ركني البيع، وكثيراً ما يطلق الباطل على الفاسد أفاده ط\". (کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة، فصل في التصرف في المبیع الخ،ج:۵ ؍۱۴۷، ۱۴۸،ط:سعید)

فتاویٰ ھندیۃ میں ہے:

\"من حكم المبيع إذا كان منقولاً أن لايجوز بيعه قبل القبض\". (کتاب البیوع، الباب الثاني، الفصل الثالث، ج:۳ ؍ ۱۳ ،ط:رشیدیة )

فتاویٰ شامی میں ہے:

\"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولايرغب المقرض في الإقراض طمعاً في فضل لايناله بالقرض فيقول: لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهماً وقيمته في السوق عشرة؛ ليبيعه في السوق بعشرة، فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهماً وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثاً فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهماً ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهماً، كذا في المحيط،... وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال عليه الصلاة والسلام: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم»\". (کتاب البیوع، باب الصرف، ج:۵ ؍ ۲۷۳، ط:سعید)

وفیه أیضاً:

\"فيأتي إلى تاجر فيطلب منه القرض ويطلب التاجر منه الربح ويخاف من الربا فيبيعه التاجر ثوباً يساوي عشرة مثلاً بخمسة عشر نسيئةً فيبيعه هو في السوق بعشرة فيحصل له العشرة ويجب عليه للبائع خمسة عشر إلى أجل أو يقرضه خمسة عشر درهماً ثم يبيعه المقرض ثوباً يساوي عشرة بخمسة عشرة، فيأخذ الدراهم التي أقرضه على أنها ثمن الثوب فيبقى عليه الخمسة عشر قرضاً درر.

ومن صورها: أن يعود الثوب إليه كما إذا اشتراه التاجر في الصورة الأولى من المشتري الثاني ودفع الثمن إليه ليدفعه إلى المشتري الأول، وإنما لم يشتره من المشتري الأول تحرزاً عن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن... (قوله: وهو مكروه) أي عند محمد، وبه جزم في الهداية... وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا، وقد ذمهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم» أي اشتغلتم بالحرث عن الجهاد. وفي رواية: «سلط عليكم شراركم فيدعوا خياركم فلايستجاب لكم». وقيل: إياك والعينة؛ فإنها اللعينة. (کتاب الکفالة، مطلب بیع العینة، ج: ۵ ؍ ۳۲۵  ، ط:سعید)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

\"ويمكن تعريفها - أخذاً مما يأتي - بأنها: قرض في صورة بيع، لاستحلال الفضل... وتئول العملية إلى قرض عشرة، لرد خمسة عشر، والبيع وسيلة صورية إلى الربا ... حكمها: اختلف الفقهاء في حكمها بهذه الصورة: فقال أبو حنيفة ومالك وأحمد: لايجوز هذا البيع. وقال محمد بن الحسن: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال، اخترعه أكلة الربا ... روي عن ابن عمر رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا ضن الناس بالدينار والدرهم، وتبايعوا بالعينة، واتبعوا أذناب البقر، وتركوا الجهاد في سبيل الله، أنزل الله بهم بلاءً، فلايرفعه حتى يراجعوا دينهم. وفي رواية: إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلاً، لاينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم\". (بیع العینة، ج:۹ ؍ ۹۶ ، ۹۷ ، ط:دار السلاسل،کویت ) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200552

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں