بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض اتارنے کے لیے ادھار پر کوئی چیز خرید کر نقد پر بیچنا


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میرے اوپر قرض ہے اور ابھی ٹائم پورا ہونے والا ہے، لیکن میرے پاس رقم نہیں ہے۔ اس کے لیے اگر میں کسی سے کوئی چیز پانچ یا چھ مہینے کی وقت پر ادھار پر لے لوں اور وہ چیز دوسری جگہ اصل قیمت سے کم نقد پر بھیج دوں  اور قرض ادا کروں تو یہ جائز ہے یا ناجائز؟برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ ادھار پر کوئی چیز خرید کر نقد پر جس تیسرے شخص کو بیچیں گے، اگر وہ شخص دوبارہ اس چیز کو پہلے شخص یعنی جس سے آپ نے خریدا تھا اسے نہیں بیچتا تو یہ صورت جائز ہے اور اس طریقہ سے آپ اپنا قرض اتار سکتے ہیں۔

البتہ آج کل اس کی جو صورت رائج ہے کہ کسی کو قرض کی ضرورت ہو اور وہ قرض لینے آئے اور اسے قرض کی جگہ کوئی اور چیز دی جائے اور پھر وہی چیز اس سے دوبارہ خرید لی جائے یا وہ تیسرے فرد کو بیچے اور تیسرا فرد پھر پہلے فرد کو بیچ دے اور مقصود وہ چیزخریدنا اور بیچنا نہ ہو، بلکہ اضافے کے بدلے قرض کا لین دین مقصود ہو تو اسے اصطلاح میں بیعِ عینہ کہتے ہیں جو کہ ناجائز ہے اور سود خوری کا ہی ایک راستہ ہے،  حدیث شریف میں اس قسم کے معاملہ کو رسوائی اور ذلت کا سبب قرار دیا گیا ہے، سنن ابی داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے کہ جب  تم بیع عینہ کروگےاور گائے، بیل کی دم پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی سے خوش رہو گے (یعنی ہر وقت دنیاداری میں مشغول رہو گے)اور جہاد ترک کردو گےتو اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر ذلت و رسوائی ڈال دیں گے، پھر تم لوگوں سے ذلت دور نہیں کریں گے یہاں تک کہ تم اپنے دین کی جانب لوٹ جاؤ۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"حدثنا ‌سليمان بن داود المهري ، أنا ‌ابن وهب ، أخبرني ‌حيوة بن شريح . (ح) ونا ‌جعفر بن مسافر التنيسي ، نا ‌عبد الله بن يحيى البرلسي ، أنا ‌حيوة بن شريح ، عن ‌إسحاق أبي عبد الرحمن قال سليمان: عن ‌أبي عبد الرحمن الخراساني، أن ‌عطاء الخراساني حدثه، أن ‌نافعا حدثه عن ‌ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم ‌أذناب ‌البقر ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم".

(‌‌‌‌كتاب الإجارة، باب فيمن باع بيعتين في بيعة، 3/ 291 ط : المطبعة الأنصارية)

حاشیہ ابن عابدین میں ہے: 

"(قوله: في ‌بيع ‌العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في فضل لا يناله بالقرض فيقول لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهمان وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال - عليه الصلاة والسلام - «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم» قال في الفتح: ولا كراهة فيه إلا خلاف الأولى لما فيه من الإعراض عن مبرة القرض اهـ ط ملخصا".

(‌‌كتاب البيوع، باب الصرف، مطلب في ‌بيع ‌العينة، 5/ 273، ط: سعيد)

وفيه ايضاّ:

"ومن صورها أن يعود الثوب إليه كما إذا اشتراه التاجر في الصورة الأولى من المشتري الثاني ودفع الثمن إليه ليدفعه إلى المشتري الأول، وإنما لم يشتره من المشتري الأول تحرزا عن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن... ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود".

(كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة، 5/ 325، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں