بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض اور تعاون کاحکم


سوال

 میری خالہ کی شادی کو بیس اکیس سال گزر چکے ہیں، اور ان کی اولاد نہیں ہے،  اب ان کے شوہر دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں،  خالہ کا 10 تولہ زیور فروخت کر کے اور کچھ اپنی طرف سے انہوں نے ملا کر ڈبل سٹوری مکان بنایا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ  دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی کا مکان میں حصہ ہو گا یا نہیں؟  اگر ہوگا،تو کتنا حصہ ہو گا؟جب کہ پہلی بیوی سے ان کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، اورخالہ کے شوہرکا مکان کے علاوہ کوئی اور جائیداد بھی نہیں ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی خالہ کے شوہر نے سائل کی خالہ سے یہ سونا قرض  لیاہے، تب تو سائل کی خالہ کے شوہر کے ذمہ اتناسونایا اتنے سونے کی بازاری قیمت سائل کی خالہ کو دینا لازم ہے، چاہے پھر سائل کی خالہ اور اس کا شوہر باہمی رضامندی سے اُس رقم کے تناسب سے مکان میں شریک ہونا چاہیں تو آپ کی خالہ مکان میں شریک بھی ہوسکتی ہے اس صورت میں خالہ اپنی رقم کے تناسب سے حصہ دار ہوگی۔

اور اگر سائل کی خالہ نے یہ زیور بطورِ تعاون اپنے شوہر کو دیاتھا، اور شوہرنے اسے بیچ کر اس کے ساتھ مزید رقم ملاکرمذکورہ مکان خرید لیاتھا، تو  اس صورت میں مذکورہ مکان صرف  سائل کی خالہ کے شوہر کا ہے،  سائل کی خالہ کا  اپنے شوہر کی زندگی میں اس میں حصہ نہیں۔

فیض الباری میں ہے:

"اعلم أن في الفقه بابا يسمى بالتبرع، ولا يوجد متميزا عن باب الهبة، إلا أنه يذكر في ضمن المسائل، فلينقح الفرق بين البابين، لاختلاف أحكامهما، ففي «القنية»: المتبرع لا يرجع فيما ‌تبرع به، فباب الرجوع لا يمشي في التبرعات، بخلاف الهبة ."

(كتاب الهبة، باب قبول الهبة، ٥٨/٤، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:

"(‌سئل) ‌في ‌رجل ‌استقرض ‌من ‌آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟

(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."

(باب القرض، ٢٧٩/١، ط:دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507100997

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں