بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض پر مشروط نفع دینے کا حکم


سوال

 کسان وغیرہ جو حضرات بینک سے ایک بڑی رقم قرض لے لیتے ہیں اور سال میں ایک بار پیسہ پلٹی کرنا ہوتا ہے، اس میں بینک صرف اپنا انٹرسٹ کاٹ لیتے ہیں اورباقی پیسہ کسان واپس نکال لیتا ہے،  یہ معروف طریقہ ہے ، اب اس میں یہ شکل ہوتی ہےکہ ایک بینک کا ملازم ہے،  کسان اس سے کہتے ہیں کہ میرے پرایک لاکھ بینک کا قرض ہے اور انٹرسٹ سات ہزار  ہوگیا،  اور میرے پاس صرف سات ہزار انٹرسٹ والے ہیں، ایک  لاکھ نہیں ہے، یہ آپ اپنے پاس سے جمع کردو، کل نکال کر آپ اپنے پیسے رکھ لینا،  اس کے بدلہ میں آپ کو کچھ پیسے انعام کے طور پر دے دوں گا تو کیا بینک کے ملازم کے  لیے اپنے ایک لاکھ روپے کے بدلے یہ انعام لینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بینک سے سودی قرضہ لینا حرام ہے،  پس اگر کسی نے ایسا قرضہ لیا ہو  تو اُسے جلد از جلد اس سے چھٹکارے کی کوشش کرنی چاہیے،  اورکسی دوسرے شخص کے لیے جائز حدود میں رہ کر اس کا قرض اتروانے کے لیے تعاون کرنا تو جائز ہے، لیکن ناجائز معاملے میں معاون بننا یا ناجائز معاملہ کرکے نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔

صورتِ  مسئولہ میں بینک ملازم یا کسی اور شخص  سے لاکھ روپے اس شرط پر جمع کرانا کہ نکالنے پر کسان اسے کچھ انعام دے گا، قرض پر مشروط نفع ہے، جوکہ  سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"[مَطْلَبٌ كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ]

(قَوْلُهُ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ) أَيْ إذَا كَانَ مَشْرُوطًا كَمَا عُلِمَ مِمَّا نَقَلَهُ عَنْ الْبَحْرِ، وَعَنْ الْخُلَاصَةِ وَفِي الذَّخِيرَةِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ النَّفْعُ مَشْرُوطًا فِي الْقَرْضِ، فَعَلَى قَوْلِ الْكَرْخِيِّ لَا بَأْسَ بِهِ وَيَأْتِي تَمَامُهُ."

(كتاب البيوع، باب المرابحة و التولية، فصل في القرض،٥ / ١٦٦، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201672

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں