بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض پر نفع لینا اور اس کو لکھنے کا حکم


سوال

 میرے ساتھ دبئی میں کمرے کا ایک ساتھی ہے،اُن سے اگر کوئی شخص قرضہ مانگ لیتا ہے ،مثلاً: کسی نے اُس سے ایک لاکھ روپے مانگے تو وہ مارکیٹ جا کراُن ایک لاکھ کی رقم کو درہم میں کنورٹ کر لیتا ہے،پھر وہ اُس قرض مانگنے والے سے کہہ دیتا ہے کہ یہ ایک لاکھ کے دراہم ہیں ،آپ ان ایک لاکھ کے دراہم کو پاکستانی کرنسی میں ایک لاکھ، اٹھائیس ہزار روپے کے بدلے میں لو گے یا نہیں؟اوراُس کو ادائیگی کے لیے ایک سال کی مدت دے دیتا ہے،یعنی وہ اُس ایک لاکھ پاکستانی کرنسی جو کہ دراہم میں کنورٹ کی تھی اُس کو پاکستانی ایک لاکھ، اٹھائیس ہزارروپے کے بدلے میں لیتا ہے۔اسی طرح اگر دراہم کی جگہ ایک لاکھ روپے کا سونا لے کر دے اور پاکستانی کرنسی میں اُس سے ایک سال کی مدت پر ایک لاکھ،اٹھائیس ہزار روپے لینا چاہے،تو کیا یہ جائز ہوگا؟ اور کیا یہ معاملے سودی کہلائیں گے یا نہیں؟ دوسرا یہ کہ وہ بندہ اَن پڑھ ہے اور وہ یہ معاملے مجھ سے رجسٹر کے اندر لکھواتا ہے، تو کیا میں اُن کا یہ معاملہ لکھ سکتا ہوں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ معاملہ  کرنا  اور اس میں کسی بھی طریقہ سے   معاون بنناشرعاً جائز نہیں ؛ اس لیے کہ مذکورہ صورت میں ایک لاکھ روپے قرض کے بدلہ میں یا ایک لاکھ روپے کے سونے   کے بدلہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار روپے لینا  قرض پر نفع  کے حکم میں ہے اور قرض پر نفع لینا سود کے زمرے میں آتا ہے اور سودی لین دین  کرنا اور اس میں معاون بننا (اس معاملہ کو لکھنا)شرعاً جائز نہیں ،اس سے اجتناب کرنا لازم ہے ۔

حدیث میں ہے :

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌أكل ‌الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم."

(مشکاۃ المصابیح ،باب الربا،ج:2،ص:855،المکتب الاسلامی)

فتاوی شامی   میں ہے:

"وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه ،وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام.

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن اهـ سائحاني."

(باب المرابحۃ و التولیۃ، فصل فی القرض،ج:5 ،ص: 166، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں