بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

قرض معاف کر دینے کے بعد وصول کرنا


سوال

چچا نے کزن کی شادی کے لیے قرض لیا جس کے  لیے بات بھی اسی کزن نے کروائی گویا اس کزن کی حیثیت معاملے میں گواہ کی تھی،  چچا تین سال تک قرض واپس نہ کر سکے  تو قرض معاف کر دیا ،  اب وہ کزن قرض واپس کرنا چاہتے ہیں،  کیا لینا جائز ہے ؟

جواب

حدیث شریف میں قرض کی معافی اورتخفیف پرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی فضلیتیں ذکرفرمائی ہیں،جس قدرقرض کی رقم معاف کی گئی ہو اس کے بقدرصدقہ کاثواب ملتاہے،نیزقرض کی  معافی کی بنا  پر قیامت کے  دن مصائب سے  چھٹکارا نصیب ہوگا اور بعض  روایات  میں ہے کہ عرش کا سایہ نصیب ہوگا؛ اس لیے قرض کی رقم معاف کرنا بہت نیکی اور ثواب کا کام ہے اور قرض معاف کر دینے  سے مقروض کے ذمہ قرض کی ادائیگی لازم بھی نہیں رہتی۔

 لہذاایک مرتبہ قرض معاف کر لینے کے بعد دوبارہ اس کو وصول  نہیں کرنا چاہیے۔

الفتاوى الهندية (4/ 384):

[الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه]
(الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين) . هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسًا واستحسانًا."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202683

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں