بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض لوٹاتے وقت اضافی رقم دینے کا حکم


سوال

ایک دوست نے مجھ سے دس ہزار روپے قرض لیا، اس نے مجھے(bkash) کے ذریعے ادائیگی کی، کیش آؤٹ کے اخراجات کے لیے دس ہزار روپےکے ساتھ مزید دو سو روپے بھیجے، میں نے مذکورہ دس ہزار روپے کیش آؤٹ نہیں کیے ہیں، مذکورہ دس ہزار روپے سینڈ منی اور فلیکس لوڈ کے ذریعے نکالے ہیں، میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میرے لیے یہ دو سو روپے مذکورہ دس ہزار روپے کے ساتھ خرچ کرنا جائز ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے دس ہزار روپیہ قرض دیتے وقت کچھ طے نہیں کیا تھا،اور مقروض نے قرض ادائیگی کے وقت کیش آؤٹ کے لیےاپنی طرف سے دو سوروپے اس لیے زائد دے دیے تاکہ اس رقم کو نکلوانے میں قرض دینے والے کے اپنے  پیسے خرچ نہ ہوں اوراس کو دس ہزار سے کم رقم وصول نہ ہوتو ایسا کرنا جائز ہے،تاہم چوں کہ مقروض کی ہدایت کے مطابق سائل نےبی کیش کے کیش آؤٹ میں وہ رقم استعمال نہیں کی اس لیے اخلاقاًاسے چاہیے کہ وہ مقروض کو یہ بات بتادے،اگر وہ تب بھی اسے دینے پر راضی ہو تو سائل کے لیے اس کا استعمال بلا کراہت جائز ہے۔

اور اگر قرض دیتے وقت ہی دو سور وپے کی اضافی رقم کی شرط لگادی گئی تھی تو اس صورت میں سائل کے لیے  ان اضافی دو سو روپے کااستعمال کرنا سود ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔

"صحيح البخاري"میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:كان لرجل على النبي صلى الله عليه وسلم سن من الإبل، فجاءه يتقاضاه، فقال صلى الله عليه وسلم: (أعطوه). فطلبوا سنه فلم يجدوا له إلا سنا فوقها، فقال: (أعطوه). فقال: أوفيتني أوفى الله بك، قال النبي صلى الله عليه وسلم: (إن خياركم أحسنكم قضاء)."

(ص:٦٣٥،ج:١،کتاب الإستقراض وأداء الديون،باب حسن القضاء،ط:الطاف اينڈ سنز)

ترجمہ:’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ پر ایک شخص کا اونٹ ایک عمر کا قرض تھا،آپ ﷺ سے وہ تقاضا کرنے آیا،آپﷺ نے (صحابہ سے)فرمایا اس کا اونٹ دو،صحابہ نے ڈھونڈا تو اس عمر کا اونٹ نہ پایا،البتہ زیادہ عمر کا موجود تھا،آپﷺ نے فرمایا وہی دے دو،وہ کہنے لگاآپ نے میرا قرض بھر پور دے دیااللہ تعالیٰ آپ کو بھر پور ثواب دے گا،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم میں وہی اچھے لوگ ہیں جو اچھی طرح قرض اداء کریں۔‘‘

(ازنصر الباری،جلد ششم،ص:٢٩٢،مکتبۃ الشیخ)

"الفتاوى الهندية"میں ہے:

"ولو قال: داري ‌لك ‌هبة ‌تسكنها، أو هذا الطعام لك تأكله، أو هذا الثوب لك تلبسه فهبة، وكذا لو قال: أحجوا فلانا، ولم يقل: عني، فإنه يعطى قدر ما يحجه وله أن لا يحج."

(ص:٣٧٥،ج:٤،کتاب الهبة،الباب الأول،ط:دار الفكر،بيروت)

"رد المحتار على الدر المختار"میں ہے:

"وفي الأشباه ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام."

‌‌"(قوله ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به."

(ص:١٦٦،ج:٥،کتاب البیوع،مطلب ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام،ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144412101106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں