بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

’’ اخوت ‘‘ سے قرض لینا


سوال

آج کل اخوت والے جو قرض دے رہے ہیں ،کیا ان میں سود ہے؟

جواب

آپ نے مذکورہ ادارے سے قرض کے معاہدے کی تفصیل نہیں لکھی، تاہم ہمارے پاس اس ضمن میں اب تک جو سوالات آئے ہیں، ان کے مطابق ایک سائل نے یہ بتایا کہ اخوت ایک ویلفئیر ادارہ ہے، جو تیس ہزار قرضہ دیتا ہے، جس کی واپسی تیس ہزار ہی کرنا ہوتی ہے، لیکن 500 روہے ایڈوانس بھی لیتا ہے،  جس میں سے 150 روپے کاغذات کی فیس کے لیے اور باقی ڈیتھ انشورنس ہے کہ اگر کوئی مرجائے تو اس کا قرضہ معاف ہوگا، یہی ڈیتھ انشورنس والی رقم وہ قرضہ قسط ختم ہونے کے بعد بھی واپس نہیں دیتے۔

اس تفصیل  کے مطابق مذکورہ ادارہ سے قرضہ لینا شرعاً جائز نہیں ہو گا؛ کیوں کہ انشورنس کی مد میں جو رقم کاٹی جاتی ہے شرعاً یہ سود اور جوئے کا مجموعہ ہے جو حرام اور ناجائز ہے  اور ناجائز شروط سے مشروط ہونے کی وجہ سے یہ قرضہ لینا بھی ناجائز ہو گا۔

نیز ایک سائل نے یہ بتایا کہ جو پیسہ یہ ادارہ دیتا ہے وہ زکاۃ کا پیسہ ہوتا ہے، یا زکاۃ اور دیگر عطیات سے مخلوط ہوتاہے، اگر یہ سچ ہو تو  اس صورت میں زکاۃ کی رقم سے قرضہ دینا اور لینا دونوں جائز نہیں ہوگا، اور نہ ہی قرضہ دینے سے زکاۃ ادا ہوگی؛ کیوں کہ زکاۃ کی ادائیگی کے  صحیح ہونے کے لیے زکاۃ کے  مستحق کو مالک بناکر رقم دینا شرعاً ضروری ہے اور یہاں ایسا نہیں ہو رہا۔

حتمی جواب اسی وقت دیا جا سکتا ہے جب اس ادارہ کی آمدن سے  متعلق تحقیقی علم ہو، اسی طرح مذکورہ ادارہ کے قواعد وضوابط کی مکمل تفصیل معلوم ہو، اگر آپ بسہولت لکھ سکتے ہوں تو لکھ دیں، پھر حتمی جواب دیا جا سکے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100788

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں