بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

قرض کی رقم لوٹانے میں کتاب کی مالیت کی شرط


سوال

میں نے کسی کو 500 روپے دیے اور یہ شرط لگائی کہ آج اس کتاب کی قیمت 400 روپے ہے، پیسوں کی واپسی کے وقت جو اس کتاب کی قیمت ہوگی،  مجھے وہ لوٹائی جائے، چاہے وہ 1000 ہو یا 300۔ کیا یہ جائز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جو 500 روپے قرض کے طور پر دیے گئے ہوں، اس کی واپسی کے لیے ایسی شرط لگانا جس سے اس رقم میں کمی بیشی ہو، سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ آپ نے جو رقم قرض دی ہے، اتنی ہی رقم واپس لینے کے مستحق ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 2):

"لأن الربا هو الفضل الخالي عن العوض وحقيقة الشروط الفاسدة هي زيادة ما لايقتضيه العقد ولايلائمه."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201664

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں