بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1443ھ 19 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی کی دعا


سوال

میں مالی طور پر پانچ مہینوں سے پریشان ہوں، کسی سے کاروبار کیا مگر آٹھ لاکھ کا نقصان ہوگیا، آج مجھے انہوں نے آخری تاریخ ادائیگی کے لیے کہا ہے، ورنہ مجھے جیل بھیج دیں گے ۔میرا مسئلہ کب حل ہوگا؟

جواب

ہم آپ کے لیے دعا گوں ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانی کو حل فرمائے اور ا س مشکل سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمائے، اس صورتِ حال میں دل برداشتہ نہ ہوں،  بلکہ اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھیں، نمازوں کا اہتمام کریں۔

نیز   تمام غموں اور پریشانیوں سے نجات کے لیے، خصوصاً  قرض سے نجات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ کو بتلائی ہوئی درج ذیل دعا صبح و شام سات سات بار پڑھیں:

’’اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِ‘‘.

’’ترجمہ: یا اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں فکر اور غم سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں کم ہمتی اور سستی سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں بزدلی اور بخل سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں قرض کے غلبہ اور لوگوں کے ظلم و ستم سے۔‘‘

   اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سکھلائی ہوئی درج ذیل دعا ہر فرض نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے پڑھیں، اگر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا غیب سے انتظام فرمادیں گے، ان شاء اللہ:

’’اَللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَنْ مَّنْ سِوَاكَ‘‘.

’’ترجمہ: یا اللہ!  مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام روزی سے بچا لے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔‘‘

ان شاء اللہ،اللہ تعالیٰ قرض کے بوجھ سے چھٹکارا نصیب فرمائیں گے، اگر کوئی سودی معاملہ یا خرید و فروخت میں کوئی غیر شرعی عقد کیا ہو تو اس سے بھی توبہ و استغفار کریں، والدین اگر حیات ہیں تو ان کی خدمت کریں، ان سے دعا کروائیں۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200332

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں