بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی کے لیے بینک سے سودی قرض لینے کا حکم


سوال

 میں نے ۲ سال پہلے اپنے لیے گھر بنانے کے کام کا آغاز کیا تھا۔. مجھے معلوم تھا کہ بینک میں سود ہوتا ہے اس لیے جب مجھے پیسوں کی اشد ضرورت پڑی تو میں نے بینک سے لینے کے بجائے دوستوں سے رابطہ کیا تو دوستوں نے اس شرط پر کہ بعد میں تھوڑا تھوڑا کرکے ان کے پیسے واپس مجھے انکو ادا کرنے ہوں گے۔ کسی نے ۲ لاکھ کسی نے ایک  لاکھ کسی نے ۷۰  ہزار دے دیے. اور میں ہر مہینے تھوڑا تھوڑا کرکے ان دوستوں کے پیسے واپس کرتا رہا ہوں. لیکن استاد محترم اب بہت سے دوست مجبوری کی بنیاد پر مجھ سے اپنے پیسے واپس مانگ رہے ہیں،  جو کہ تقریبا ۸ لاکھ بنتے ہیں۔ ان دوستون کی مجبوریوں کو مد نظر رکھ کر میرے پاس بینک سے پیسے لینے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ لہذا جناب والا مجھے راہ عنایت فرمائیں کہ کیا میں بینک سے پیسے لے سکتا ہوں؟ بینک مجھے Advance Salary Loan تقریبا ۵ لاکھ تک پیسے دینے کے لیے تیار ہے۔

جواب

واضح رہے کہ سود پر قرض لینا سخت گناہ اور گناہ کبیرہ ہے، صرف مجبوری اور اضطرار کی حالت ( جان یا عزت کا خطرہ ہو) میں جب کوئی جائز ذریعہ ضرورت پوری کرنے کا نہ ہو ضرورت کے بقدر سود پر قرض لینے کی گنجائش ہےلہذا صورت مسئولہ میں  سائل کو دوستوں کو چاہیے کہ اگر سائل واقعی تنگ دست ہے تو اپنی استظاعت کے مطابق سائل کو کچھ مزید مہلت دیں اور سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے اخراجات محدود کرکے وہ جلد سے جلد جائز وسائل کے ذریعہ قرض  ادا کرنے کی کوشش کرے۔ اگر سائل کے پاس کچھ مال جمع ہو (سونا ، چاندی وغیرہ) تو اس کو فروخت کرکے قرض ادا کرے یا پھر بلا سود قرض لے کر ان دوستوں کا قرض ادا کردے اور پھر جن سے قرض لیا ان کو تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کرتا رہےیا اگر اس قرض کی وجہ سے مستحق زکوۃ ہے اور لوگ سائل کو زکوۃ دینے پر آمادہ ہیں تو زکوۃ لے کر قرض ادا کردے۔نیزاگر دوست مہلت دینے پر آمادہ نہ ہوں اور کوئی جائز صورت ممکن نہ ہو اور قرض خواہوں کی طرف سے بے عزت کیے جانے کا  خطرہ ہو  تو  سائل شرعا معذور اور مجبور شمار ہوگا اور بقدر ضرورت  سود پر قرض  لینے کی گنجائش ہوگی۔ اور اس صورت میں سائل پر توبہ و استغفار بھی لازم ہوگا۔

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر میں ہے:

"«‌‌القاعدة الرابعة عشرة: ما حرم أخذه حرم إعطاؤه.

1 - كالربا ومهر البغي وحلوان الكاهن والرشوة وأجرة النائحة والزامر، إلا في مسائل.

2 - الرشوة لخوف على ماله أو نفسه أو ليسوي أمره عند سلطان أو أمير

قوله: الرشوة لخوف على ماله إلخ. هذا في جانب الدافع أما في جانب المدفوع له فحرام ولم ينبه عليه كذا قيل. أقول: إنما لم ينبه عليه لظهوره إذ لا ضرورة في جانب المدفوع له، وينبغي أن يستثنى الأخذ بالربا للمحتاج فإنه لا يحرم كما صرح به المصنف - رحمه الله - في البحر، ويحرم على الدافع الإعطاء بالربا."

(الفن الاول، النوع الثانی من القواعد، القاعدۃ الرابعۃ عشرۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۴۴۹، دار الکتب العلمیۃ)

الأشباه والنظائر  میں ہے:

"وتتعلق بها قواعد:‌‌ الأولى: الضرورات تبيح المحظورات....‌‌الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها."

(الفن الاول ، القاعدۃ الخامسۃ  ص نمبر ۷۳،دار الکتب العلمیۃ)

کفایت المفتی میں ہے:

"سود پر روپیہ قرض لینا جائز نہیں الا یہ کہ اضطراری حالت ہوجائے۔  محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ،دہلی۔"

(کفایت المفتی، کتاب الربوٰ، ج:۸ ؍ ۱۰۶ )

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"میں پرائمری اسکول کا ماسٹر ہوں ، پانچ بچے ہیں، والدہ ہیں ، گھر کی ضروریات کے لئے سودی قرض لیتا ہوں، ہر وقت دل پریشان رہتا ہے، حتی کہ دین کے کاموں کو بھی اچھی طرح سے نہیں ادا کر پاتا۔ ایسی حالت میں اپنا ذریعہ معاش ٹھیک کرنے کے لئے سرکار سے صنعتی قرحہ لے سکتا ہوں یا نہیں ؟ جس میں کچھ سود بھی قسطوں مین ادا کرنا پڑے گا ، ایسی صورت میں میرے لئے گنجائش ہے یا نہیں؟

الجواب حامدا و مصلیا:

سود لینا اور سود دینا حرام ، اگر گزارہ کی کوئی صورت نہ ہو تو  محتاج کے لئے بقدر ضرورت سودی  قرض لینے کی گنجائش ہے۔"

(کتاب البیوع باب الربا ج نمبر ۱۶ ص نمبر  ۳۰۲، جامعہ فاروقیہ)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سود دینا حرام ہے، ایسے شخص پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے، حرام کا ارتکاب اضطرار کی حالت میں معاف ہے، پس اگر جان کا قوی خطرہ ہے یا عزت کا قوی خطرہ ہے، نیز اور کوئی صورت اس سے بچنے کی نہیں، مثلا: جائے داد فروخت ہوسکتی ہے، نہ روپیہ بغیر سود کے مل سکتا ہے تو ایسی حالت میں زید شرعاً معذور ہے۔ اور اگر ایسی حالت نہیں، بلکہ کسی اور دنیوی کاروبار کے لیے ضرورت ہے یا روپیہ بغیر سود کے مل سکتا ہے یا جائیداد فروخت ہوسکتی ہے تو پھر سود پر قرضہ لینا جائز نہیں، کبیرہ گناہ ہے۔ "

(کتاب البیوع باب الربا ج نمبر ۱۶ ص نمبر  ۳۰۵، جامعہ فاروقیہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم في كل مكيل وموزون بيع مع جنسه وعلته القدر والجنس ونعني بالقدر الكيل فيما يكال والوزن فيما يوزن فإذا بيع المكيل كالبر والشعير والتمر والملح أو الموزون كالذهب والفضة وما يباع بالأواقي بجنسه مثلا بمثل صح وإن تفاضل أحدهما لا يصح وجيده ورديئه سواء حتى لا يصح بيع الجيد بالرديء مما فيه الربا إلا مثلا بمثل."

(کتاب البیوع، باب التاسع، فصل سادس ج نمبر ۳ ص نمبر ۱۱۷، دار الفکر)

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"عن جابر - رضي الله عنه - قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: (هم سواء) » رواه مسلم."

(کتاب البیوع، باب الربا ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۹۱۵،دار الفکر)

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - " «الربا سبعون جزءا أيسرها إثما أن ينكح الرجل أمه."

(کتاب البیوع، باب الربا ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۹۲۵،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100783

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں