بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

قرض دیتے وقت بعض ممنوع مطالبات


سوال

 ایک دوست   نے آج سےکچھ عرصے پہلے پاکستانی روپے میں ایک بڑی رقم اپنے عزیز کو بطور قرضِ  حسنہ دی،  اس موقع پر ایک دستاویز بھی لکھ لی گئی تھی،  اب سالہا سال گزرنے کے بعد جب رقم کی واپسی کا مرحلہ آیا تو افراطِ  زر کے سبب روپے کی قیمتِ خرید کافی گر چکی ہے اور اس دوران سونے اور پڑاپرٹی کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ تو بظاہر قرض دینے والے کو نقصان اٹھانا پڑا،  اس وجہ سے قرض دیتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے،  آج کل کرنسی کی قدر میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ جائے داد (پراپرٹی) اور سونے/چاندی کی قیمت کو عمومًا  زیادہ قابلِ بھروسہ شمار کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں کیا قرض کی پاکستانی رقم کی 'قیمت' کو قرض دیتے وقت کی سونے یا امریکی ڈالر کی قیمت کے ساتھ نتھی/ منسلک کرنا جائز ہے؟ اگر قرض کی ابتدا میں ہی ایسی لکھا پڑھی کر لی جائے تو ایسا کرنا جائز ہے؟ کیا قرض کی رقم کو اُس وقت کی کسی جائے داد (زمین/دکان/مکان وغیرہ) کی ویلیو کے ساتھ نتھی/ منسلک کرنا جائز ہے؟ مثلًا آج اس رقم میں فلاں مکان مل رہا ہے، قرض کی واپسی پر قرض دار اسی مکان کی قیمت کے برابر رقم کی ادائیگی کا پابند ہو گا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی قسم کی اضافی رقم کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟ یہ بات قابلِ غور ہے کہ آج کل لوگ قرض کی بروقت ادائیگی کی عمومًا اتنی فکر نہیں کرتے اور کہہ دیتے ہیں کہ "بعد میں دے دیں گے" یا " تمہارا قرض ہمارے ترکے میں سے دے دیا  جائے گا"۔ 

جواب

واضح  رہے  کہ جو  چیز  قرض دی جاتی ہے، اس کے مثل ہی قرض میں لوٹائی جاتی ہے۔ اس میں مشروط کمی زیادتی کرنے سے سود لازم آتا ہے جو کہ ناجائز ہے۔ 

صورتِ  مسئولہ میں جو رقم قرض دی جا رہی ہے، وہی رقم قرض میں واپس وصول کی جائے  گی چاہے عرصۂ  دراز بعد اس رقم کی قیمتِ خرید کم ہوجائے۔ اس رقم کی سونے، چاندی، زمین، ڈالر وغیرہ کی قیمتِ خرید کو معیار بنا کر قرض نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ اس رقم کے بقدر سونا، چاندی، ڈالر ہی قرض دے دیا جائے اور بعد  میں  جو  چیز بطورِ قرض دی ہو  وہی وصول کرلی جائے یا اس کی قیمت  وصول کر لی جائے۔

قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اضافی رقم کا مطالبہ کرنا ناجائز ہے۔ نیز  یہ  بھی  واضح  ہو کہ قرض کی ادائیگی کے اسباب ہونے کے باوجود ٹال مٹول کرنا سخت گناہ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 161):

"(وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7 / 396):

"وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7 / 395):

"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحًا، أو أقرضه و شرط شرطًا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعًا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لايقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطةً في القرض."

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201282

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں