بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض دیے ہوئے پیسوں میں زکوۃ کی نیت کرنا


سوال

میں نے ایک آدمی کو کچھ پیسے اُدھار دیے،اس نے ابھی تک واپس نہیں کیے۔اب اس کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔کیا میں اس کو دیے ہوے پیسے اب بطور زکوۃادا کرنے کی نیت کر سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ ادا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ  اسے کسی مستحق زکوۃ شخص کو مالک بنا کردیا جائے اور زکوۃ کی رقم مستحق کو ادا کرتے وقت یا زکوۃ کی رقم اپنے مال سے الگ کرتے وقت اس میں زکوۃ کی نیت کی جائے، لہذا اگر پہلے سے قرض دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہ کی ہو، اور اب اسے زکوۃ کی مد میں کاٹ لیا جائے تو یہ اِبراء اور معاف کرنا ہے، زکوۃ کی نیت سے رقم کا مالک بنانا نہیں ہے، اس لیے اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔لہذا  صورتِ مسئولہ میں ادھار دی ہوئی رقم زکوۃ کی مد میں معاف کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی،  البتہ مذکورہ صورت میں زکوۃ کی ادائیگی کی دو جائز صورتیں ہیں:

1۔ اگر  مذکورہ مقروض شخص   واقعتًا  زکوۃ کا مستحق ہے  تو پہلے  اسے زکوۃ  کی رقم کا مالک  بنا کر دے دیں  اور  جب رقم اس کی ملکیت میں چلی جائے، تو اس سے اپنا قرضہ وصول کر لیں۔اس طرح دینے والے کی زکوۃ   بھی ادا ہوجائے گی، اور مقروض کا قرض بھی ادا ہوجائے گا۔

2- زیادہ بہتر صورت یہ ہوگی کہ مقروض، قرض کے برابر رقم کسی تیسرے شخص سے ادھار لے کر  قرض خواہ کو اپنا قرض ادا کرے، قرض خواہ قرض وصول کرنے کے بعد وہ رقم اپنی زکوۃ کی مد میں سابقہ مقروض کو ادا کردے، پھر یہ مقروض اس تیسرے شخص کو اس کی رقم لوٹا دے جس سے اس نے عارضی طور پر ادھار لیا تھا۔ اس طرح اولاً قرض خواہ کا قرض وصول ہوجائے گا، لیکن مقروض پھر بھی مقروض اور مستحقِ زکوۃ رہے گا، پھر قرض خواہ جب اسے اپنی زکوۃ ادا کرے گا تو اس کی زکوۃ ادا ہوجائے گی اور قرض خواہ کے پاس اپنی زکوۃ میں دی گئی رقم کا کوئی حصہ واپس اپنی ملکیت میں بھی نہیں آئے گا، اور آخر میں مقروض کا قرض بھی ادا ہوجائے گا۔ 

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وأما شرط أدائها فنية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب هكذا في الكنز"

(کتاب الزکاۃ،‌‌الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:1،ص:170،ط:دارالفکربیروت)

مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:

"(وشرط) صحة (أدائها) أي كونها مؤداة (نية) لأنها عبادة مقصودة فلا تصح بدونها (مقارنة للأداء) المرادأن تكون مقارنة للأداء للفقير أو الوكيل ولو مقارنة حكمية كما إذا دفع بلا نية ثم حضرته النية والمال قائم في يد الفقير فإنه يجزيه بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه۔۔۔(أو لعزل المقدار الواجب) فإنه إذا عزل من النصاب قدر الواجب ناويا للزكاة وتصدق إلى الفقير بلا نية سقطت زكاته."

(کتاب الزکاۃ،‌‌ شرط صحة أداء الزكاة، ج:1، ص:196/195، ط:المطبعة العامرة،تركيا)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102268

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں