بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

قرض دار کو زکات کی رقم دے کر واپس وہ رقم قرض کے بدلہ وصول کرنے کا حکم


سوال

میرا ایک آدمی پر قرض ہے میرے پاس زکاۃ کی رقم ہے، کیامیں اس رقم کو قرض دار کو دے کر پھر یہی رقم بطور قرض وصول کرسکتا ہوں؟ اس صورت میں کیا اس قرض دار کو پہلے یہ رقم دینا پڑے  گی یا نہیں؟

جواب

اگر مذکورہ شخص جو آپ کا قرض دار ہے صاحبِ نصاب نہیں ہے یعنی اس کے پاس اتنا سونا  چاندی یا نقدی یا ضرورت سے زائد اشیاء یا ان سب یا بعض کا مجموعہ موجود نہیں کہ جس کی کل مالیت سے آپ کا واجب الادا  قرضہ  منہا کر نے کے بعد  بھی اس کی ملکیت میں نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے بقدر باقی بچتا ہو تو  آپ اس شخص کو اپنے قرضہ کے بقدر رقم زکات کی مد میں مالک بنا کر دینے کے بعد وہ پیسے اپنے قرض کی مد میں اس سے وصول کر سکتے ہیں، ایسا کرنا شرعاً جائز ہے۔ رقم اس شخص کو  دیے بغیر ایسے ہی زکات کی نیت سے قرض معاف کردینے سے آپ کی زکات ادا نہیں ہوگی، بلکہ پہلے وہ رقم اس شخص کو مالک بناکر دینا لازم ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200417

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے