بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قرض دار کو قرض خواہ کا پتہ نہ چل سکے تو قرضہ کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟


سوال

میرا سوال یہ ھے کہ مجھ پر کچھ دکانداروں کا اور کچہ دوستوں کا قرض ہے ،اب مجھے وہ قرضہ اداکرناھے۔ تمام لوگوں کاقرضہ مجھے یاد نہیں ہے کہ کتنا ہے لیکن اندازہ کے مطابق جمع کیا جائے تو چار ہزار کی رقم بنتی ہے، اب ان لوگوں کو تلاش کرنا مشکل ہے، تو یہ قرض کیسے ادا کیا جائے؟ اگر ان کی طرف سے صدقہ کی نیت کرکے ادا کیا جائے تو کیا قرضہ ادا ہوجائیگا؟

جواب

پہلے تو ان لوگوں کو تلاش کریں جن کی رقم سائل کو ادا کرنی ہے، تلاش کے باوجود بھی نہ ملیں تو پھر ان کی طرف سے قرض کے بقدر رقم صدقہ کردیں، اور بالفرض بعد میں ان قرض خواہوں میں سے کوئی مل جائے اور وہ اس صدقہ کی اجازت نہ دے تو اسکی رقم اس کوواپس کرنا ہوگی۔ اس صورت میں وہ صدقہ سائل کی طرف سے ہوجائیگا۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143501200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے