بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض پر دی ہوئی رقم کی زکوۃ کس طرح ادا کی جائے؟


سوال

1۔ میں نے کچھ حضرات کو رقم بطورِ قرض  دی تھی جس کو دیے ہوئے  سال گزرچکا ہے ،رقم دیتے وقت واپس کرنے کے حوالہ سے اِس بات کا تعین نہیں کیا گیا تھا کہ رقم کب واپس کریں گے؟رقم مجھے واپس نہیں ملی ہے اور مجھے  یہ بھی  نہیں معلوم کہ کتنے عرصہ میں واپس ملے گی ،       مجھے معلوم یہ کرنا ہےکہ میں نے جو رقم بطور قرض  دی ہوئی ہے اس کی زکوۃ کس طرح ادا کروں ؟

2۔جو رقم میں نے بطور قرض دی ہوئی ہے  اس کو سال گزر چکا ہےاس ہی سال اس کی زکوۃ ادا کروں یا دی ہو ئی رقم جب مجھے واپس ملے اس میں سال لگے یا اس سے زیادہ وقت لگ جائے اس وقت ادا کروں؟

3۔جب مجھے رقم واپس ملے تو اس پر جتنا عرصہ گزر چکا ہوگا اس تمام عرصہ کی زکوۃ ادا کی جائے گی یا جس سال میں نے رقم دی تھی صرف اس کی زکوۃ ادا کرں گا؟

4۔جس سال رقم دی تھی اُس سال کے حساب سے زکوۃ کی ادائیگی کروں گا یا جس سال مجھے رقم واپس ملے اس سال کے  حساب سے زکوۃ ادا کروں گا؟

جواب

1۔ جو رقم قرض کے طور پر کسی کو دی ہے اگر وہ تنہا یا دوسرے موجود روپے یا سونا چاندی یا مال تجارت کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے اور اس پر سال بھی گزر  چکا ہےتو قرض  دینے والے پر اس کی زکوۃ واجب ہے۔

2۔البتہ زکوۃ ادا کرنا قرض وصول ہونے کے بعد لازم ہوگا ،اگر قرض وصول ہونے سے پہلے زکوۃ ادا کرےگا تو زکوۃ ادا ہو جائے گی وصول ہونے کے بعد گزشتہ سالوں کی زکوۃ دوبارہ دینا لازم نہیں ہوگی ۔

3۔اگرقرض وصول ہو نے سے پہلے زکوۃ ادا نہیں کی اور قرض وصول ہونے میں ایک سال سے زیادہ کاعرصہ لگ گیا تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ بھی حساب کر کے دے گا۔

4۔رقم پرہر سال کی زکوۃاسی حساب سے اداکی جائے گی جس وقت زکوۃ کا سال پورا ہوجائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض."

(کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:305،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(ولو عجل ذو نصاب) زكاته (لسنين أو لنصب صح) لوجود السبب."

 

(کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:293،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) أي محكوم بإفلاسه (أو) على (جاحد عليه بينة) وعن محمد لا زكاة، وهو الصحيح، ذكره ابن ملك وغيره لأن البينة قد لا تقبل (أو علم به قاض) سيجيء أن المفتى به عدم القضاء بعلم القاضي (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى)."

(کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:266،ط:سعید)

وفیہ ایضاً: 

"(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة۔۔۔۔(قوله كزكاة) فلو كان له نصاب حال عليه حولان ولم يزكه فيهما لا زكاة عليه في الحول الثاني."

(کتاب الزکوۃ ،ج:2،ص:260،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100246

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں