بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض میں تاخیر کی وجہ سے اضافی رقم یا منافع لینے کا حکم


سوال

میں نے ایک بندے کےساتھ اسی لاکھ روپے انویسٹ کیے، کاروبار چلتا رہا اور ہم فیصد کے اعتبار سے نفع تقسیم کرتے رہتے تھے، سال 2020ء کے اختتام پر میں نے ان سے کہا کہ میرا حساب کتاب کرکے مجھے فارغ کردیں، انہوں نے مکمل حساب کرکے مجھے کہا کہ آپ کے اتنے پیسے میرے ذمے ہیں، ان شاءاللہ میں آپ کو دو سے تین مہینے میں فارغ کردوں گا،  لیکن 2021 بھی ختم ہوا اور ابھی تک مجھے کچھ نہیں ملا، اور اب بھی مجھے کہتاہے دو سے تین مہینوں میں آپ کو تیس سے پینتیس لاکھ روپے دے دوں گا، باقی بعد میں دوں گا، تو ان حالات کو مدِ نظر رکھتےہوئے میں نے کہا کہ اتنی بڑرقم میری اس کے پاس ہے اور اس   پر مجھے کچھ بھی نفع نہیں مل رہا، تو آپ ایسا کریں کہ جب تک میرے پیسے مکمل طور پرادا نہ ہو، تب تک آپ ایک فلور فیکٹری کا کرایہ ہر مہینے مجھے دیاکریں، تو  انہوں نے رضامندی کا اظہار کیا، کہ میں بھی چاہتا ہوں کہ  آپ کو کچھ نہ کچھ نفع دے دوں اور وہ اب دینے کےلیے تیار ہے۔

اب میں پوچھنا یہ چاہتاہوں  کہ  جب تک میری  پیمنٹ پوری نہ ہوجائے،تب تک میرے لیےہر ماہ ایک فلور کا کرایہ لینا شرعاً جائز ہےیا نہیں؟  

جواب

صورتِ مسئولہ میں فریقین نے جب کاروبار ختم کرکے حساب کتاب کیاتو اس بندے نے کہا  کہ میرے ذمے آپ کی اتنی  رقم ہے، وہ  میں آپ کودو سے تین مہینوں میں ادا کردوں گا،تو سائل کی جتنی رقم حساب کتاب کے بعد بنتی تھی، وہ رقم سائل کا دوسرے بندے کے ذمے قرض تھا، اور قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے  اضافی رقم لینا سود ہے، جو کہ ناجائز وحرام اور اللہ تعالی کےساتھ اعلان جنگ ہے، لہٰذادوسرے بندے پر بھی لازم ہے کہ جلد از جلد سائل کی رقم ادا کرے اور رقم ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرے ورنہ گناہ گا ر ہوگا، اوررقم کی ادائیگی تک  سائل کےلیے تاخیر کی وجہ سےفیکٹری کے فلور کا کرایہ  لینا شرعاً ناجائز ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

"يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ (٢٧٨) فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ (٢٧٩) وَإِن كَانَ ذُو عُسۡرَةٖ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيۡسَرَةٖۚ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ".

(سورۃ البقرۃ، اٰیت:280)

السنن الكبرى للبیہقی میں ہے:

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا".

(كتاب البيوع، باب كل قرض جر منفعة فهو ربا، ج:5، ص:573، رقم:10933، ط:دار الكتب)

فتاوى شامي میں ہے:

"وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن".

وفي الرد:

"(قوله ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به".

(كتاب البيوع، باب المرابحة، فصل في القرض، ج:5، ص:166، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں