بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

قمیص میں بٹنوں والی پٹی کس طرف لگانی چاہیے؟


سوال

کُرتے   کی بٹنوں والی پٹی کس طرف کو لگوانی چاہیے، نیز کُرتے میں کریزیں بنوانے کے متعلق بھی بتا دیں؟

جواب

 

لباس میں بٹنوں کے لگانے کا رخ و جہت متعین کرنے سے پہلے  یہ فائدہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ شریعتِ مطہرہ میں لباس کی کوئی خاص کیفیت اور وضع طے نہیں کی گئی ہے،  بلکہ اس کی  کچھ حدود  وشرائط  طے کرکے اس کی وضع اور کیفیت ہر ملک اورعلاقہ  کے لوگوں کے مزاج  پر  چھوڑ  دی گئی ہے۔  اب ان متعین حدود کی رعایت کرتے ہوئے جو لباس بھی کسی بھی وضع وکیفیت کے ساتھ پہنا جائے  وہ اسلامی وشرعی لباس کہلائے گا۔اگر اس میں سنتِ نبوی کی پیروی بھی کر لی گئی ہو تو مسنون لباس کہلائے گا اور ثواب بھی پائے گا۔اگر سنت  کی پیروی نہ کی ہو اور حدود میں رہ کے لباس پہناہو تو وہ جائز لباس کہلائے گا، لیکن سنت کی پیروی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا ثواب نہیں پائےگا۔

شرعی لباس کے  لیے شرائط وحدود:

مندرجہ ذیل شرائط  کی رعایت کرکے جو  لباس بھی پہنا جائے گا وہ شرعی لباس کہلائے گا:

1- لباس اتنا چھوٹا اورباریک اورچست نہ ہو کہ وہ اعضاء ظاہرہوجائیں جن کا چھپانا واجب ہے؛ کیوں کہ قرآنِ مجید میں ایسے لباس پہننے کا حکم دیا گیا ہے جس کے ذریعے تمام اعضاء مستورہ کا ستر حاصل ہوجائے۔ (سورۃ الأعراف، رقم الآیۃ: 26)

2- لباس ایسا نہ ہو جس میں کفار  و فساق کے ساتھ مشابہت ہو؛ کیوں کہ حدیث شریف میں کفار وفساق کے ساتھ مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔

3- لباس سے تکبروتفاخر ،اسراف وتنعم مترشح نہ ہوتا ہو ،البتہ اسراف وتنعم اورنمائش سے بچتے  ہوئے  اپنادل خوش کرنے کے لیے قیمتی لباس پہننا جائز ہے۔

4- مردکی شلوار، تہبند اور پاجامہ ٹخنوں سے نیچے نہ ہو؛ کیوں  کہ حدیث شریف میں ہے  جس شخص کی شلوار اس کے ٹخنوں سے نیچے ہو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائیں گے۔

5-   مردکا لباس اصلی  ریشم کانہ ہو ، کیوں کہ ریشم  حرام ہے، نیز ایسا کپڑا بھی نہ ہو جس کا بانا ریشم کا ہو۔

6-  مرد’’زنانہ‘‘ اورعورتیں’’ مردانہ‘‘ لباس نہ پہنیں، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ لعنت ہو ایسی عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کریں اور ایسے مردوں پر جو  عورتوں کی مشابہت اختیار کریں۔

(سنن أبي داؤد، كتاب اللباس، رقم الحدیث:4097 ج:2، ص:458، ط:دارالفکر) 

7-خالص سرخ رنگ کالباس پہننا مردوں کے لیے مکروہ ہے؛ کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ آپﷺ  کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جس نے سرخ لباس زیب تن کیا ہوا تھا، تو اس کے سلام کرنے پر مذکورہ لباس کی وجہ سے آپﷺ نے ان کو جواب بھی نہیں دیا، البتہ کسی اور رنگ کی آمیزش ہو ،یاسرخ دھاری دار ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔

(سنن أبي داؤد، کتاب اللباس، باب في الحمرۃ، ج:2، ص:563، ط:دارالفکر)

بہرحال یہ  لباس کے شرعی اصول ہیں۔ان کے دائرے  میں رہ کر جو لباس بھی پہنا جائے خواہ کسی بھی وضع اور کیفیت کے ساتھ ہو  وہ جائز اور درست ہوگا، البتہ لباس چوں کہ  سننِ عادیہ میں سے ہے اس وجہ سے مذکورہ اصول کے مطابق لباس بنیتِ ثواب  پہننے سے ماجور ہوگا، نہ  پہننے  سے  گناہ گار بھی نہیں ہوگا۔

لہذا  جب  مذکورہ تمہید سے واضح ہوا کہ   قرآن و حدیث میں لباس کی کوئی خاص کیفیت  مقرر نہیں کی گئی، البتہ اصول بتادیے گئے ہیں تو لباس کی مذکورہ شرعی حدود کے  ساتھ  بٹن پٹی کا دایا ں پلہ اوپر  اور بایاں پلہ نیچے (کفن پہنانے کے موافق)   ہونا بہتر ہے،   اور کرتے میں کریز (کلیاں) بنانے میں کوئی حرج نہیں۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:

"اسلامی لباس ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ بالکل ویسا لباس ہو جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا تھا، بلکہ جس کی آپ ﷺ نے اجازت دی ہو وہ بھی آپﷺ کا طرز ہے۔"

(تسہیل المواعظ، ج:2، ص:131، ط:ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ)

الشمائل للترمذي میں ہے:

"عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّتِي ، تُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهَا قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَمشِي بِالْمَدِينَةِ ، إِذَا إِنْسَانٌ خَلْفِي يَقُولُ : ارْفَعْ إِزَارَكَ  ، فَإِنَّهُ أَتْقَى وَأَبْقَى فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ قَالَ : أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ."

(باب ما جاء في إزار رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ص:109، ط:مؤسسة الكتب الثقافة)

سنن أبي داود میں ہے:

"عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ."

(باب فى لبس الشهرة، ج:4، ص:44، ط:المكتبة العصرية)

 مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"وَهُوَ الْمَأْثُورُ وَهُوَ أَبْعَدُ عَنْ الْخُيَلَاءِ (بَيْنَ النَّفِيسِ وَالْخَسِيسِ) لِئَلَّا يَحْتَقِرَ فِي الدَّنِيءِ وَيَأْخُذَهُ الْخُيَلَاءُ فِي النَّفِيسِ وَعَنْ النَّبِيِّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «أَنَّهُ نَهَى عَنْ الشُّهْرَتَيْنِ» وَهُوَ مَا كَانَ فِي نِهَايَةِ النَّفَاسَةِ وَمَا كَانَ فِي نِهَايَةِ الْخَسَاسَةِ وَخَيْرُ الْأُمُورِ أَوْسَاطُهَا."

(كتاب الكراهية، ج:2، ص:532، ط؛داراحياء التراث العربي)

سنن أبي داود میں ہے:

"عبد الله عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم " من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة " فقال أبو بكر: إن أحد جانبي إزاري يسترخي إني لأتعاهد ذلك منه قال :" لست ممن يفعله خيلاء."

(باب ماجاء فى اسبال الازار، ج:2، ص:454، ط:دارالفكر)

فقط والله اعلم

 


فتوی نمبر : 144207200306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں