بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قیلولہ کی تعریف


سوال

قیلولہ کی صحیح تعریف کیا ہے یعنی دوپہر کا کھانا کھانے کے فوراً بعد سونے کا نام قیلولہ ہے یا کچھ دیر (آدھے پونے گھنٹے)بعد سونے کو قیلولہ کہا جائے گا؟

جواب

قیلولہ کے معنی ہیں :دوپہر کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لیٹنا، خواہ نیند آئے یا نہ آئے. 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول ظہر کی نماز سے پہلے کھانے اور قیلولہ کا تھا، البتہ جمعے کے دن نماز کے بعد کھانے اور سونے کا معمول تھا۔ چناں چہ صحیح بخاری میں حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ہم  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے اور پھر قیلولہ ہوتا تھا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کی روز  کی عادت تھی۔

حضرت  ڈاکٹر محمد عبد الحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر فرصت میسر ہو تو اتباعِ سنت کی نیت سے دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر لیٹ جائے، اس کو ’’قیلولہ‘‘  کہتے ہیں، اس مسنون عمل کے لیے سونا ضروری نہیں، صرف لیٹ جانا ہی کافی ہے‘‘۔ (اسوہ رسول اکرم ص: ۳۶۱ ط: مکتبہ عمر فاروق)

عمدۃ القاری میں ہے:

"والقائلة هي ‌القيلولة وهي النوم بعد الظهيرة، وقال ابن الأثير: المقيل والقيلولة الاستراحة نصف النهار وإن لم يكن معها نوم، يقال: قال يقيل قيلولة، فهو قائل."

(کتاب الاستئذان ، باب القائلة بعد الجمعة جلد 22 ص: 263 ط: داراحیاء التراث العربي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"قال الأزهري: ‌القيلولة والمقيل عند العرب: الاستراحة نصف النهار، وإن لم يكن مع ذلك نوم بدليل قوله تعالى: {وأحسن مقيلا} [الفرقان: 24] والجنة لا نوم فيها."

(کتاب الصلوۃ ، باب الخطبة و الصلوۃ جلد 3 ص: 1040 ط: دارالفکر)

وفیہ ایضا:

"عن سهل. قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الجمعة ‌ثم ‌تكون ‌القائلة."

(باب القائلة بعد الجمعة جلد6 ص: 253 ط: داراحیاء التراث العربي)

فتح الباری میں ہے:

"والمعنى أنهم كانوا يبدؤن بالصلاة ‌قبل ‌القيلولة بخلاف ما جرت به عادتهم في صلاة الظهر في الحر فإنهم كانوا يقيلون ثم يصلون لمشروعية الإبراد"

(باب وقت الجمعة جلد ۲ ص: ۳۸۸ ط: دار المعرفة)

تحفۃ الاحوذی میں ہے:

"قال الحافظ ظاهره أنهم كانوا يصلون الجمعة باكر النهار لكن طريق الجمع أولى من دعوى التعارض وقد تقرر أن التبكير يطلق على فعل الشيء في أول وقته أو تقديمه على غيره وهو المراد هنا والمعنى أنهم كانوا يبدأون بالصلاة قبل ‌القيلولة بخلاف ما جرت به عادتهم في صلاة الظهر في الحر فإنهم كانوا يقيلون ثم يصلون لمشروعية الإبراد انتهى ومنها حديث سهل بن سعد رضي الله عنه ما كنا نقيل ولا نتغدى إلا بعد الجمعةرواه الجماعة ووجه الاستدلال به أن الغداء والقيلولة محلهما قبل الزوال وحكوا عن بن قتيبة أنه قال لا يسمى غذاء ولا قائلة بعد الزوال وأجاب عنه النووي وغيره بأن هذا الحديث وما معناه محمول على المبالغة في تعجيلها وأنهم كانوا يؤجلون الغداء والقيلولة في هذا اليوم إلا ما بعد صلاة الجمعة ندبوا إلى التبكير إليها فلو اشتغلوا بشيء من ذلك قبلها خافوا فوتها أو فوت التبكير إليها"

(ابواب الجمعة ، باب ما جاء في وقت الجمعة جلد 3 ص: 17 ط: دارالکتب العلمیة)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144401101942

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں