بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اگر قالین ایک طرف سے ناپاک ہو تو پاک حصے پر نماز پڑھنے کا حکم


سوال

نماز پڑھنے کے لیے اگر نیچے موجود قالین ناپاک ہو تو نماز ہوسکتی ہے؟ یا اگر قالین کے دوسرے حصے میں ناپاکی ہو یا آپ کو شک ہے کہ قالین ناپاک ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

قالین کے جس حصے پر نماز پڑھی جا رہی ہو اگر وہ ناپاک ہے تو اس جگہ نماز پڑھنا درست نہیں۔

قالین کے جس حصے پر نماز پڑھی جا رہی ہو اگر وہ حصہ پاک ہو، تاہم قالین دوسری جگہ سے ناپاک ہو تو پاک طرف پر نماز پڑھنے سے نماز درست ہو گی۔

قالین کے جس حصہ پر نماز پڑھی جا رہی ہو اگر وہ حصہ ناپاک ہو، لیکن اس کے اوپر موٹا کپڑا بچھا دیا جائے، یا جائے  نماز بچھا لیا جائے تو اس کے اوپر نماز پڑھنا درست ہو گا۔

قالین کے جس حصے کے ناپاک ہونے کا محض شک ہو تو اس شک کا کوئی اعتبار نہیں، وہاں نماز پڑھنا درست ہو گا، لیکن اگر محض شک نہ ہو بلکہ اس جگہ کے ناپاک ہونے کا غالب گمان ہو تو ایسی صورت میں اس کو ناپاک تصور کیا جائے گا اور وہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

واضح رہے کہ نماز میں زمین کے جس جس حصے پر نمازی کے اعضاء زمین سے لگتے ہیں زمین کے ان حصوں کا پاک ہونا ضروری ہے، اگر قالین کے یہ حصے پاک ہوں اور اس کے علاوہ ناپاک ہوں تو بھی وہاں نماز پڑھنے سے نماز درست ہو جائے گی۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: 

"يشترط طهارة "موضع القدمين"...."و" منها طهارة موضع "اليدين والركبتين" على الصحيح لافتراض السجود على سبعة أعظم....."و" منها طهارة موضع "الجبهة على الأصح."

(كتاب الصلوة، ص:209، ط:دارالکتب العلمیة)

البحر الرائق میں ہے:

"ولو صلى على بساط وعلى طرف منه نجاسة فالأصح أنه يجوز كبيرا كان أو صغيرا."

(کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، جلد:1، صفحہ: 282، طبع: دار الکتاب الاسلامی)

درر الحکام میں ہے:

"‌اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك نعم لأن اليقين القوي أقوى من الشك فلا يرتفع اليقين القوي بالشك الضعيف، أما اليقين فإنما يزول باليقين الآخر ."

(المقالة الثانية: في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة ٤): اليقين لا يزول بالشك، ج: 1ص:22 ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101287

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں