بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا قلم رکھنا سنت ہے؟


سوال

کیا اپنے پاس قلم یا آج کے دور کا پین رکھنا سنتِ مبارکہ ہے؟ اور اگر ہے تو کسی حدیث کا حوالہ نمبر دے دیں ۔

جواب

اس بارے میں ایک روایت ترمذی میں ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ   میں رسول اللہ ﷺ   سے یہ سناکہ   قلم کو اپنے کان پر رکھا کرو،ا س لیے کہ لکھوانے کی بات جلد ی یاد آجاتی ہے ، مذکورہ روایت کے بارے میں امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے، اس سے اس عمل کی سنیت ثابت نہیں ہوتی، نیز یہ حکم اموریہ عادیہ کے متعلق ہے۔

سنن ترمذی میں ہے :

حدثنا قتيبة قال: حدثنا عبد الله بن الحارث، عن عنبسة، عن محمد بن زاذان، عن أم سعد، عن زيد بن ثابت، قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين يديه كاتب فسمعته يقول: «ضع ‌القلم ‌على ‌أذنك فإنه أذكر للمملي»: «هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه وهو إسناد ضعيف، وعنبسة بن عبد الرحمن ومحمد بن زاذان يضعفان في الحديث»

(أبواب الاستیذان والآداب، ‌‌باب ما جاء في تتريب الكتاب 67/5، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وفي الجامع الصغير برواية الترمذي عن زيد بن ثابت مرفوعًا بلفظ: " «ضع القلم على أذنك، فإنه أذكر للمملي» ". أقول: ولعل هذا اللفظ هو الصحيح في الحديث، وأن لفظ للمآل مصحف عن هذا المقال، ويؤيده رواية أذكر لك، ويكون المعنى حينئذ أن وضع القلم على الأذن أقرب تذكرا لموضعه وأيسر محلا لتناوله، بخلاف ما إذا وضعه في محل آخر، فإنه ربما يتعسر عليه حصوله بسرعة من غير مشقة، مع أنه يمكن أن يؤول لفظ المآل إلى أن يؤول إلى هذا المعنى بأن يقال التقدير: فإنه أذكر لمآلك أو لمآل المملي عند طلب القلم على وجه الاستعجال فيندفع ما تقدم من غاية التكلف ونهاية التعسف مما سبق في المقال والله أعلم بالحال."

(مرقاة المفاتيح، كتاب الآدب، باب السلام 7/ 2951 ط: دار الفكر، بيروت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144501101233

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں