بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قیدی وضو اور تیمم پر قادر نہ ہوسکے تو نماز کا حکم


سوال

جس شخص  کوعرصہ دراز سے کسی ظالم حکومت نے کسی ایسی جگہ بند کیا ہو جہاں اسے نہ پانی میسر ہو اور نہ وہ اپنی پاکی پر قادر رہے   جگہ کے تنگ ہونے کی وجہ سے تو ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟ اور وہ جگہ ایسی ہے وہ ایک ہی حالت میں پڑا ہوا ہے یعنی اپنی ہیئت بھی تبدیل نہیں کر سکتا۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ شخص وضو اور تیمم میں سے کسی صورت میں بھی پاکی حاصل کرنے پر قادر نہیں، تو نماز کے وقت  کے احترام میں اشارے سے  نماز  پڑھنے والے کی  مشابہت اختیار کرے، اور جب اسے اس تکلیف سے خلاصی مل جائے تو بعد میں ان ایام کی فوت شدہ نمازوں کی قضا کرے۔ اور اگر تیمم کرنے پر  کسی طرح قادر ہو تو تیمم کر کے نماز ادا کرتا  رہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 80):

(قوله: فاقد الطهورين) أي الماء والتراب كمن حبس وقيد بحيث لا يصل إليهما.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 252):

(قوله وقالا يتشبه بالمصلين) أي احتراما للوقت.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 252):

(والمحصور فاقد) الماء والتراب (الطهورين) بأن حبس في مكان نجس ولا يمكنه إخراج تراب مطهر، وكذا العاجز عنهما لمرض (يؤخرها عنده: وقالا: يتشبه) بالمصلين وجوبا، فيركع ويسجد إن وجد مكانا يابسا وإلا يومئ قائما ثم يعيد كالصوم (به يفتى وإليه صح رجوعه) أي الإمام كما في الفيض، وفيه أيضا (مقطوع اليدين والرجلين إذا كان بوجهه جراحة يصلي بغير طهارة) ولا يتيمم (ولا يعيد على الأصح) وبهذا ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر فليحفظ وقد مر وسيجيء في صلاة المريض. .

[فروع] صلى المحبوس بالتيمم، إن في المصر أعاد وإلا لا. هل يتيمم لسجدة؟ إن في السفر نعم وإلا لا. .

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں