بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قحط پڑا تو آپ نے چوری کی حد معطل کردی بلکہ کوتوال کو سزا دینے پر سزا دی کی تحقیق


سوال

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قحط پڑا تو آپ نے چوری کی حد معطل کردی، بلکہ کوتوال کو سزا دینے پر سزا دی۔

درج ذیل واقعے کی تصدیق مطلوب ہے۔

جواب

مذکورہ  واقعہ   اپنے مذکورہ سیاق وسباق کے ساتھ  ہمیں کہیں نہیں مل سکا، البتہ  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی  طرف سے چوری کی حد کو بوجہ شُبہ ساقط کرنے  اور چور کے مالک پر تاوان مقرر کرنے سے   متعلق  ایک اور واقعہ (جس میں  غلام پر بوجہ شبہ کہ مالک نے اپنے غلام کو بھوکا رکھا جس کے سبب وہ چوری کرنے پر مجبور ہوا، حد ِسرقہ نافذ نہ کی گئی)  روایات میں ملتا ہے، امام مالک رحمہ اللہ (المتوفى: 179ھ) کے ہاں یہ واقعہ کچھ یوں منقول ہے:

"عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، أن رقيقا لحاطب سرقوا ناقة لرجل من مزينة فانتحروها، فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب، «فأمر عمر كثير بن الصلت أن يقطع أيديهم، ثم قال عمر: أراك تجيعهم، ثم قال عمر: والله! لأغرمنك غرما يشق عليك، ثم قال للمزني: كم ثمن ناقتك؟ فقال المزني: قد كنت والله أمنعها من أربعمائة درهم، فقال عمر: أعطه ثمانمائة درهم."

ترجمہ:" یحیي بن عبد الرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب رضی اللہ عنہ کے غلاموں نے’’مُزینہ‘‘ (قبیلہ) کے ایک آدمی کی اونٹنی چر  ا کر ذبح کرلی ، یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ میرا خیال میں تم انہیں بھوکا رکھتے ہو، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں تمہارے اوپر اتنا تاوان ڈال دوں گا کہ تم گرانی محسوس کرو گے، پھر مُزنی سے فرمایا کہ تمہاری اونٹنی کی قیمت کیا ہوگی؟ مُزنی نے کہا: خدا کی قسم !میں نے تو وہ چار سو درہم میں بھی نہیں دی تھی،   حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے آٹھ سو درہم دے دو۔"

(موطأ الإمام مالك، باب القضاء في الضواري والحريسة، (2/ 748) برقم (38)، ط/ دار إحياء التراث العربي، بيروت)

یہی واقعہ امام طحاوی رحمہ اللہ(المتوفى: 321ھ) نےبواسطہ ابن وہب رحمہ اللہ،  امام مالک رحمہ اللہ سے ، اور علامہ بیہقی رحمہ اللہ (المتوفى: 458ھ)نےبھی  بواسطہ امام شافعی رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ سے  نقل فرمایا ہے، ۔

(شرح مشكل الآثار، باب بيان مشكل الواجب فيما اختلف فيه أهل العلم في تمثيل الرجل بعبده من عتاق عليه بذلك، ومن سواه مما لا عتاق معه، (13/ 365) تحت رقم (5330)، ط/ مؤسسة الرسالة)

(معرفة السنن والآثار، ما جاء في تضعيف الغرامة، (12/ 425) برقم (17242)، ط/ دار قتيبة، دمشق)

امام  مالک رحمہ اللہ  کی  نقل کردہ مذکورہ روایت میں راوی  ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے نقل کرنے والے دیگر رُوات کا  اختلاف :  

مذکورہ تینوں مقامات پر  امام مالک رحمہ اللہ،  ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے جو مضمون واقعہ کا نقل فرما رہے ہیں،  اس کے مطابق  یہ غلام ، حاطب رضی اللہ عنہ کے تھے جنہوں نے چوری کی تھی ، او رحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تاوان حضرت حاطب رضی اللہ عنہ پر مقرر فرمایا تھا، جبکہ یہی واقعہ  امام عبد الرزاق صنعانی رحمہ اللہ (المتوفى: 211ھ) کےہاں  بطریق جُريج عن هشام بن عروة اور بطريق  معمر عن  ہشام بن عروۃ جس  تفصیل کے ساتھ منقول ہوا ہے،  اس کے مطابق  یہ غلام،  عبد الرحمن بن حاطب کے تھے ، جنہوں نے چوری کی تھی، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہی سے  گقتگو کرتے ہوئے ان پر تاوان مقرر کیا تھا، ان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں: 

 " عن ابن جريج، قال: حدثني هشام بن عروة، عن عروة، أن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، أخبره عن أبيه، قال: توفي حاطب، وترك أعبدا، منهم من يمنعه، من ستة آلاف يعملون في مال الحاطب، يشمران فأرسل إلي عمر ذات يوم ظهرا، وهم عنده، فقال: هؤلاء أعبدك سرقوا، وقد وجب عليهم ما وجب على السارق، وانتحروا ناقة لرجل من مزينة، اعترفوا بها، ومعهم المزني، فأمر عمر أن تقطع أيديهم، ثم أرسل وراءه، فرده، ثم قال لعبد الرحمن بن حاطب: أما والله! لولا أني أظن أنكم تستعملونهم، وتجيعونهم، حتى لو أن أحدهم يجد ما حرم الله عليه لأكله، لقطعت أيديهم، ولكن والله! إذ تركتهم لأغرمنك غرامة توجعك، ثم قال للمزني: كم ثمنها؟ قال: كنت أمنعها من أربع مائة، قال: أعطه ثمان مائة. 

عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، أن غلمة لأبيه عبد الرحمن بن حاطب سرقوا بعيرا فانتحروه، فوجد عندهم جلده، ورأسه، فرفع أمرهم إلى عمر بن الخطاب، فأمر بقطعهم، فمكثوا ساعة، وما نرى إلا أن قد فرغ من قطعهم، ثم قال عمر: عليَّ بهم، ثم قال لعبد الرحمن: والله!  إني لأراك تستعملهم، ثم تجيعهم، وتسيء إليهم، حتى لو وجدوا ما حرم الله عليهم، لحل لهم، ثم قال لصاحب البعير: كم كنت تعطى لبعيرك؟ قال: أربع مائة درهم، قال لعبد الرحمن: قم فاغرم لهم ثمان مائة درهم. "

(مصنف عبد الرزاق، باب سرقة العبد، (10/ 238 و239) برقم (18977 و18978)، ط/ المكتب الإسلامي - بيروت)

ہشام بن عروۃ رحمہ اللہ سے مروی روایت میں جو سیاق وسباق  امام مالک رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے کہ  غلام ، حاطب رضی اللہ عنہ کے تھے جنہوں نے چوری کی تھی ، او رحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تاوان بھی حضرت حاطب رضی اللہ عنہ پر ہی مقرر فرمایا تھا، وہ معمر رحمہ اللہ کی روایت سے زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے ۔

مذکورہ واقعہ کو زمانہ قحط سے منسوب کرنا:  

مذکورہ واقعہ میں  بغوردیکھا جاسکتا ہے کہ بوجہ شُبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حد سرقہ کو ساقط کرتے ہوئے چور کے مالک پر تاوان کو مقرر فرمایا ہے، لیکن اس میں کہیں بھی  اس واقعہ کے زمانہ قحط میں رونما ہونے کی صراحت نہیں ہے ،  اس واقعہ کو زمانہ قحط سے منسوب کیے جانے  کی ایک وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسی واقعہ کو ابن قیم  رحمہ اللہ (المتوفى: 751ھ)   نے  اپنے ہاں ’’فصل من أسباب سقوط الحد عام المجاعة‘‘ کے عنوان کے تحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مشہور  روایت کہ ’’  کھجور کی وجہ سےہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے، اور   قحط سالی میں ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے‘‘   کو نقل کرنے کے بعد   سعدی رحمہ اللہ (ابراہیم بن یعقوب السعدی الجوزجانی) کا قول نقل کیا ہے کہ ’’یہ (قحط سالی میں چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے کا حکم )بالکل اسی طرح ہے جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قصہ حاطب رضی للہ عنہ کے غلاموں کے معاملے میں ‘‘ اور پھر مذکورہ قصہ مکمل نقل فرمایا ہے، تو اس وجہ سے دیکھنے والوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ واقعہ قحط سالی کے دور کا ہے، ابن قیم رحمہ اللہ کی عبارت پیشِ خدمت ہے :

" فصل من أسباب سقوط الحد عام المجاعة: المثال الثالث: أن عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - أسقط القطع عن السارق في عام المجاعة، قال السعدي: حدثنا هارون بن إسماعيل الخزاز ثنا علي بن المبارك ثنا يحيى بن أبي كثير حدثني حسان بن زاهر أن ابن حدير حدثه عن عمر قال: لا تقطع اليد في عذق ولا عام سنة.

قال السعدي: سألت أحمد بن حنبل عن هذا الحديث فقال: العذق النخلة، وعام سنة: المجاعة، فقلت لأحمد: تقول به؟ فقال: إي لعمري، قلت: إن سرق في مجاعة لا تقطعه؟ فقال: لا، إذا حملته الحاجة على ذلك والناس في مجاعة وشدة.

قال السعدي: وهذا على نحو قضية عمر في غلمان حاطب، ثنا أبو النعمان عارم ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن ابن حاطب أن غلمة لحاطب بن أبي بلتعة سرقوا ناقة لرجل من مزينة، فأتى بهم عمر، فأقروا، فأرسل إلى عبد الرحمن بن حاطب فجاء فقال له: إن غلمان حاطب سرقوا ناقة رجل من مزينة وأقروا على أنفسهم، فقال عمر: يا كثير بن الصلت اذهب فاقطع أيديهم، فلما ولى بهم ردهم عمر ثم قال: أما والله لولا أني أعلم أنكم تستعملونهم وتجيعونهم حتى إن أحدهم لو أكل ما حرم الله عليه حل له لقطعت أيديهم، وايم الله إذا لم أفعل لأغرمنك غرامة توجعك، ثم قال: يا مزني بكم أريدت منك ناقتك؟ قال: بأربع مائة، قال عمر: اذهب فأعطه ثماني مائة. " 

( إعلام الموقعين، فصل من أسباب سقوط الحد عام المجاعة، (3/ 17)، ط/ دار الكتب العلمية - ييروت )

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مشہور  روایت کہ ’’کھجور کی وجہ سےہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے، اور   قحط سالی میں ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے‘‘ کا حوالہ : 

مذکورتفصیل سے معلوم ہوا کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا قصہ تو قحط سالی کا نہیں ، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے قحط سال کے طور میں حد سرقہ ساقط کیے جانے کا قول دیگر روایات میں موجود ہے، روایت بمع حوالہ ملاحظہ فرمائیں : 

 حسن بن موسی اشیب رحمہ اللہ (المتوفى: 209ھ) کے  احاديث كے جزء ميں  ہے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں : 

"حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ زَاهِرٍ، عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: لَا تُقْطَعُ يَدٌ فِي عِذْقٍ وَلَا عَام سَنَةٍ." 

"یعنی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ   ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گےکھجور کی وجہ سے، اور  نہ ہی  قحط سالی میں۔"

(جزء فيه أحاديث الحسن بن موسى الأشيب (ص: 34) برقم (7) ، ط/ دار علوم الحديث - الفجيرة، الإمارات)

تخریج : 

(1) أخرجه عبد الرزاق (المتوفى: 211هـ) في مصنفه، باب القطع في عام سنة، ( 10/ 242) برقم (18990)، ط/ المكتب الإسلامي - بيروت.

(2) وابن أبي شيبة (المتوفى: 235هـ) في مصنفه، باب في الرجل يسرق التمر والطعام، (5/ 521) برقم (28586 و28591)، ط/  مكتبة الرشد - الرياض. 

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144205200162

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں