بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قفیز الطحان کے مسئلہ کا حکم


سوال

1۔زید نے بکر کو کچھ بکریاں اس شرط پر دی کہ ان بکریوں کو چرانا اوران کی دیکھ بھال کرنا آپ کے ذمہ ہے اوراس کا دودھ بھی آپ لیں گے،لیکن  جو بچے ان بکریوں سے پیداہونگے وہ نِصف نِصف ہونگے بکر زید کے ان شرائط پر راضی ہوگیا،اب معلوم یہ کرنا کہ زیداوربکر کا یہ معاملہ دُرست ہے یا نہیں ؟

2۔زید کے علاقہ  میں آٹاچکی والے دکاندار حضرات فی بوری گندم پر ایک کلوگندم کا ٹتے ہے اوراس کے علاوہ فی کلو گندم پیسنے کے 5 روپے لیتے ہیں،سوال یہ ہے کہ چکی والے دکانداروں کا اِنہی بوریوں سے گندم کاٹناشرعاًجائزہے یا نہیں ؟

جواب

1۔صورت مسئولہ میں مذکورہ معاملہ جائز نہیں ہے،  بلکہ ایسی صورت میں دودھ  اور بچے دونوں زید کے ہوں گے، اور پالنے والے(بکر) کو اجرت  مثل دی جائے گی،  جانور کے چارہ وغیرہ کے علاوہ جانور پالنے اور رکھنے کی جواجرت بنتی ہے بکراس اجرت کا مستحق ہوگا۔

اس کے متبادل جواز کی ممکنہ صورتیں درج ذیل ہیں:

پہلی صورت:   ایک صورت تو وہی ہے کہ کرایہ پر پالنے کے لیے دے دے، اور پالنے والے کی اجرت طے کرلے، اس صورت میں دودھ، بچے وغیرہ سب مالک کے ہوں گے۔

دوسری صورت:زید اپنے پیسوں سے بکرے  خریدے اور پھر  (بکر)  کے ہاتھ اس کا آدھا حصہ  آدھی قیمت پر بیچ دے ،پھر زید بکر کو وہ پیسے معاف کردے،تو  دونوں کے درمیان  وہ بکرے  مشترک ہوجائیں گے،  اس بکریوں سے  جو بچے   پیدا ہوجائے ، ہر ہر بچے میں زیداور بکر برابر شریک ہوں گےاور اس طرح اس بکروں کے دودھ میں بھی دونوں برابر شریک ہوں گے، اس صورت میں معاف کرنا بھی ضروری نہیں ہے، اگر دوسرے شریک کے پاس فی الوقت پیسے نہ ہوں، تو اس کے حصے کی رقم ادھار کرلی جائے، اور جیسے اس کی گنجائش ہو وہ ادا کرتا رہے۔

تیسری صورت: زید اور بکر   دونوں پیسے ملا کربکریاں خریدیں، اس میں ہر ایک اپنی مالیت کے بقدر شریک ہوگا، اوراسی طرح  مالیت کے تناسب سے دونوں اس کے دودھ ، اور ہر ہر بچے میں بھی  شریک ہوں گے ۔

2۔مذکورہ معاملہ   " قفیز الطحان  میں داخل ہونے کی وجہ سے نا جائز   ہے، جس كے عدم جواز كے وو وجوهات هے،اول:" اجرت من جنس العمل" ہونے کی وجہ سے یہ اجارہ فاسدہ ہے، اس لیے  کہ جو چیز فی الحال موجود نہیں، بلکہ اجیر (مزدور) کے عمل  سے حاصل ہوگی، اس کو اجیر کے لیے اجرت مقرر کرنا جائز نہیں ہے،  دوسری وجہ یہ ہے  :كہ ایسے معاملہ   ميں اجرت متعین نہیں، بلکہ مجہول ہے،جب اجرت اور مدت اجارہ متعین نہ ہو تو ایسا عقد شرعاً فاسد ہوتا ہے اور عقد فاسد جائز نہیں،مذكورہ صورت میں    عامل کو اجرت مثل دی جائے گی اور تمام آٹا مالک کی ملکیت  ہوگی۔

تاہم اس معاملے کے جواز کی دو صورتیں ہیں:

1-  معاملہ کرتے وقت مطلقاً یوں کہے: ’’اجرت میں تمہیں ایک کلو آٹا دوں گا‘‘، یوں نہ کہے: اس آٹے میں سے دوں گا، جو تم پیسوگے،  تو بھی اجارہ درست ہے اور اس آٹے کا استعمال کرنا بیچنا جائز ہے۔

2-  آٹا پیسنے سے پہلے ہی کچھ مقدار گندم وغیرہ کی علیحدہ کرکے دے دے کہ یہ تمہاری اجرت ہے، پھر اجیر خواہ اسے پیسے یا ویسے ہی اپنے استعمال میں لے آئے۔  تو یہ صورت بھی جائز ، اور اس آٹے کا استعمال بھی جائز ہے۔

البتہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ابتلاءِ شدید کی صورت میں سوال  میں ذکر کردہ معاملہ میں جواز کی گنجائش کا قول اختیار کیا ہے۔ (امداد الفتاوی۔3/342) لہذا اگرابتلاءِ عام کی صورت میں  کسی نے یہ معاملہ کرلیا ہو تو  اس کو ناجائز نہیں کہا جائے گا، البتہ ابتداءً ایسا معاملہ نہیں کیا جائے۔

امداد الفتاوی میں ہے:

سوال:"زید نے اپنا بچھڑا بکر  کودیاتو اس کو پرویش کر بعد جوان ہونے کے اس کی قیمت کرکے ہم دونوں میں سے جوچاہے گانصف قیمت دوسرے کو دے کراسے رکھ لے گا،یا زید نے خالدکو ریوڑ سونپااور معاہدہ کرلیا کہ اس کوبعد ختم سال پھر پڑتال لیں گے،جو اس میں اضافہ ہوگا وہ باہم تقسیم کرلیں گے، یہ دونوں عقد شرعاًجائز ہیں یاقفیز الطحان کے تحت میں ہیں،جیساکہ عالمگیری جلد پنجم،ص:271،مطبوعہ احمدی میں ہے:دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافًا فالإجارة فاسدة.

الجواب:كتب إلی بعض الأصحاب،من فتاوى ابن تيميه،كتاب الإختيارات مانصه: ولو دفع دابته أو نخله،إلي من يقوم له وله جزء من نمائه صح وهو رواية عن أحمد،ج:4ص:85،س:14،پس حنفیہ کے قواعدپر تویہ عقد ناجائز ہے،کمانقل في السؤال عن عالمگیرۃ،لیکن بنا بر نقل  بعض اصحاب امام احمد رح کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے،پس تحرز احوط ہے،اورجہاں ابتلاء شدید ہوتوسع کیاجاسکتاہے۔"

(کتاب الاجارۃ،ج:3،ص:342،343،ط:مکتبہ دار العلوم  کراچی)

ہدایہ میں ہے:

"ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة لما روينا ولأن الجهالة في المعقود عليه وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع."

(كتاب الإجارة،ج:3،ص:231،ط:دار احياء التراث العربي،بيروت،لبنان)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا خلاف في شركة الملك أن الزيادة فيها تكون على قدر المال حتى لو شرط الشريكان في ملك ماشية لأحدهما فضلا من أولادها وألبانها لم تجز بالإجماع".

(کتاب الشرکة،فصل وأما بيان شرائط جواز هذه الأنواع،6،ص:62،ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافًافالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي... والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه، ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما".

(کتاب الإجارة، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه،ج:4،ص؛504،ط:رشیديه)

مبسوط للسرخسی میں ہے:

"بخلاف الزوائد فإنها تتولد من الملك فإنما تتولد بقدر الملك".

(کتاب القسمة،ج:6،ص:15،ط:دار المعرفة، بيروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"صورة قفيز الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثوراً ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنساناً ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك فذلك فاسد، والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزاً من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة، أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد؛ لأن الدقيق إذا لم يكن مضافاً إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشاراً إليه يجوز أن يكون ديناً في الذمة، ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط."

(کتاب الإجارۃ، الباب الخامس عشر في بیان ما یجوز من الإجارۃ و ما لا یجوز،ج:4،ص:444،ط:رشیدیه)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: والحيلة أن يفرز الأجر أولاً) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل، ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولايكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه، كما في المنح عن جواهر الفتاوى. قال الرملي: وبه علم بالأولى جواز ما يفعل في ديارنا من أخذ الأجرة من الحنطة والدراهم معاً ولا شك في جوازه اهـ. (قوله: بلا تعيين) أي من غير أن يشترط أنه من المحمول أو من المطحون فيجب في ذمة المستأجر، زيلعي".

 (كتاب الإجارة،ج:6،ص:57،ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144404101247

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں