بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں کے اشیاء کی فروخت کا حکم


سوال

 میں ایک مارٹ میں کام کرتا ہوں ، وہاں پر قادیانیوں کی اشیاء کو بھی گاہک کو دینی پڑتی ہیں،ان اشیاء کو فروغ دینا پڑتا ہیں، جب کہ میں ایک مسلم کمپنی میں کام کرتا ہوں، کیا مجھے اس کا گناہ ہوگا جب کہ اکثر گاہکوں کو پتہ  ہوتا ہیں کہ یہ اشیاء قادیانیوں کی ہیں پھر بھی وہ خریدتے ہیں، کچھ کو میں بتاتا بھی ہوں کچھ کو نہیں ، اس عمل کی وجہ سے خاتم النبیین مجھ چہرہ مبارک ہی نہ پھیر لیں ۔اس بارے میں آپ حضرات راہ نمائی فرمادیجیے۔

جواب

واضح رہے کہ  موجودہ دورمیں " قادیانیت"  بہت  بڑا فتنہ ہے   جو   نبی اکرم  رسولِ معظم ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہیں اور قادیانی  نہ صرف یہ کہ  دینِ اسلام سے خارج  ہیں بلکہ  زندیق اور مرتد بھی ہیں  اور یہ لوگ  قرآن وسنت  میں  طرح طرح  کی تحریفات کرکے  ملتِ اسلامیہ  کے  ایمان واسلام پر  ڈاکہ مارتے ہیں اور آئے روز ان کی ارتدادی  سرگرمیاں زور پکڑتی جارہی ہیں جن میں ان کی آمدنی کا بہت بڑادخل ہے ؛کیوں کہ ان کی کمائی کا دس فیصد  حصہ    ان کی ارتدادی سرگرمیوں میں صرف ہوتاہے  ، اس وجہ سے  امتِ مسلمہ  کے تمام مکاتبِ فکر کا فتویٰ یہ ہے کہ قادیانیوں سے  کسی طرح کا لین دین،خریدوفروخت  اور تعلقات رکھنا شرعاً  واخلاقاً جائز نہیں ہے، اس لیے   مذکورہ مارٹ میں کام کرتے ہوئے   سائل کے لیے قادیانیوں کے اشیاء کی گاہکوں سے  سے فروخت کسی طرح بھی جائز نہیں ، سائل کو چاہیے کہ ان سے مکمل طور پر بائیکاٹ کر ے  اور مارٹ کے مالک  کو بھی پیارومحبت سے یہ مسئلہ  سمجھانے کی کوشش کرے اور خریدنے والوں کو بھی   بتادیا کرے کہ یہ قادیانی کمپنی کی    پروڈکٹ ہیں جس کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے تاکہ سائل پر کسی قسم کا وبال نہ ہو

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالٰی ہے:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ  ( المائدة،آیة:2)"

ترجمہ:نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو، اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو، اور اللہ تعالٰی سے ڈراکرو بلا شبہ اللہ تعالٰی سخت سزا دینے والے ہیں۔(از بیان القرآن)

محدث العصر علامہ انور شاہ کشمیری  رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"وثانيهما ‌إجماع ‌الأمة على تكفير من خالف الدين المعلوم."

(‌‌اكفارالملحدين، خاتمة،ص:81،ط:المجلس العلمي)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"المرتد إذا باع أو اشترى يتوقف ذلك إن قتل على ردته أو مات أو ‌لحق ‌بدار ‌الحرب بطل تصرفه وإن أسلم نفذ بيعه."

(‌‌كتاب البيوع،الباب الثاني عشر في أحكام البيع الموقوف وبيع أحد الشريكين، ج:3، ص:154، ط:رشیدیه)

مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفا یت اللہ صاحب  رحمہ اللہ  لکھتے ہیں:

"اگر دین کو فتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہو تو(قادیانیوں سے ) قطع تعلق کرلینا چاہیئے، ان سے رشتہ ناتا کرنا، ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا، جس کا دین اورعقائد پر اثر پڑے ناجائز ہے، اور قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا رکھنا خطرناک ہے۔"

( کفایت المفتی ،کتاب العقائد،ج:1،ص:325۔ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407101230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں