بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں سے تعلق رکھنے والوں کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں  میں چار پانچ گھر قادیانیوں کے ہیں، ہمارے برادری میں کچھ لوگ جن میں پڑھے لکھے سمجھ رکھنے والے معززین بھی شامل ہیں سب کچھ جاننے کے باوجود قادیانیوں کی غمی خوشی میں شریک ہوتے ہیں،اور کچھ دن پہلے اس گاؤں کے معززین جن کو پورے گاؤں  والے قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں،وہ قادیانیوں کے ولیمے میں شریک ہوگئے،جب کہ یہ لوگ سب کچھ جانتے ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں راہ نمائی فرمائیں،اور ان معززین کے ساتھ تعلق رکھنے کے بارے میں بھی وضاحت فرمائیں۔

جواب

واضح رہےکہ قادیانی نبی آخرالزمان محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کےمنکرہونےکی  وجہ سے مرتد،زندیق اوردائرہ اسلام سےخارج ہیں،کسی مسلمان کےلیےان سےکسی قسم کاتعلق رکھناجائز نہیں ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لوگوں کا قادیانیوں کے غمی خوشی میں شریک ہونا ناجائز ہے،ان لوگوں کو خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ  حکمت سے سمجھانا چاہیے تاکہ یہ لوگ باز آجائے البتہ اگر یہ لوگ سمجھانے کے باوجود اپنے عمل سے باز نہ آتے ہو تو ان سے قطع تعلق کرنا چاہیے۔

تفسیر القرطبی میں ہے:

"الثالثة- قوله تعالى: (إلى ‌الذين ظلموا) قيل: أهل الشرك. وقيل: عامة فيهم وفي العصاة، على نحو قوله تعالى:" ‌وإذا ‌رأيت ‌الذين يخوضون في آياتنا" «3» [الأنعام: 68] الآية. وقد تقدم. وهذا هو الصحيح في معنى الآية، وأنها دالة على هجران أهل الكفر والمعاصي من أهل البدع وغيرهم، فإن صحبتهم كفر أو معصية، إذ الصحبة لا تكون إلا عن مودة، وقد قال حكيم «4»: عن المرء لا تسأل وسل عن قرينه … فكل قرين بالمقارن يقتدي."

(سورة هود (11): آية 114،ج:9، ص:108، ط:دار الكتب المصرية)

روح المعانی میں ہے:

"تتخذونهم أولياء والحال أنه تعالى نزل عليكم قبل هذا بمكة في الكتاب أي القرآن العظيم الشأن أن إذا سمعتم آيات الله يكفر بها ويستهزأ بها فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره وذلك قوله تعالى: وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم [الأنعام: 68] الآية، وهذا يقتضي الانزجار عن مجالستهم في تلك الحالة القبيحة، فكيف بموالاتهم والاعتزاز بهم؟....واستدل بعضهم بالآية على تحريم مجالسة الفساق والمبتدعين من أي جنس كانوا."

‌‌(سورة النساء، آيات:126-147، ج:3، ص:166-167، ط:دار الكتب العلمية)

مرقاۃ المفاتیح  شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"قال تعالى: {ولا تركنوا إلى الذين ظلموا فتمسكم النار} [هود: 113] ، الكشاف: النهي متناول للانحطاط في هواهم، والانقطاع إليهم ومصاحبتهم ومجالستهم وزيارتهم ومداهنتهم، والرضا بأعمالهم، والتشبه بهم، والتزيي بزيهم، ومد العين إلى زمرتهم، وذكرهم بما فيه تعظيم لهم."

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغيبة والشتم، ج:9، ص:89، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وجاز ‌عيادة فاسق) وهذا غير حكم المخالطة ذكر صاحب الملتقط يكره للمشهور المقتدى به الاختلاط برجل من أهل الباطل والشر إلا بقدر الضرورة، لأنه يعظم أمره بين الناس، ولو كان رجلا لا يعرف يداريه ليدفع الظلم عن نفسه من غير إثم فلا بأس به اهـ."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في البيع، ج:6، ص:388، ط:سعيد)

تكملة رد المحتار میں ہے:

"ومنها قوله صلى الله عليه وآله: لا يحل لمؤمن أن يهجر مؤمنا فوق ثلاث، فإذا مرت به ثلاث فليلقه وليسلم عليه، فإن رد عليه فقد اشتركا في الاجر، وإن لم يرد عليه فقد باء بالاثم وهذا محمول على الهجر لاجل الدنيا، وأما لاجل الآخرة والمعصية والتأديب فجائز بل مستحب من غير تقدير اه."

(‌‌كتاب الشهادات، ‌‌باب القبول وعدمه، ج:7، ص:561، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144410101345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں