بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الاول 1443ھ 27 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

قادیانی شراکت داری والی کمپنی میں ملازمت کا حکم


سوال

 میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں الیکٹریشن ہوں اور کمپنی کا مالک جو ہمیں تنخواہ دیتا ہے اس کا ایک اور آفس جو کسی شہر میں ہے اس میں ایک اور شخص جو کہ قادیانی ہے اس میں کام کرتا ہے، اب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے سیٹھ کا بزنس پارٹنر ہے اور کچھ کا کہنا ہے کہ ملازم ہے، اگر واقعی وہ پارٹنر ہو تو میری ملازمت کی تنخواہ لینا  کیا جائز ہے؟ اور یہ بھی کہ وہ ہمارے سیٹھ کے ساتھ کسی دوسرے قسم کے کاروبار میں پارٹنر ہو اور جس فیلڈ میں ہم ہیں اس کا نہ ہو تو پھر کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قادیانی زندیق اور مرتد کے حکم میں ہیں، یہ اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتے ہیں، اور غلام احمد قادیانی ملعون کو نبی تسلیم نہ کرنے والے حقیقی مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، ان سے کسی قسم کا معاشرتی تعلق روا رکھنا شرعًا جائز نہیں، لہذا کسی قادیانی کو ملازم بنانا یا اس کے ساتھ شراکت داری کرنا شرعًا جائز نہیں، اور غیرتِ  ایمانی کے بھی خلاف ہے، بہر صورت مذکورہ شخص کو چاہیے کہ وہ مذکورہ قادیانی کو  اپنی کاروباری شراکت یا ملازمت سے فوری فارغ کردے۔

صورتِ مسئولہ میں الیکٹریشن کے شعبہ میں ملازمت کرنا اور مشاہرہ یا محنتانہ وصول کرنا جائز ہے، البتہ اگر مذکورہ کمپنی میں واقعةً  قادیانی کی شراکت داری ہو، اور مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی کمپنی کا مالک قادیانی کو کاروباری شراکت داری سے الگ کرنے پر تیار نہ ہو  تو اس صورت میں مسلمان ملازمین کو کمپنی سے بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

اور اگر اس کمپنی میں کسی بھی قادیانی کی شراکت نہ ہو، ہاں کسی اور کاروبار میں شراکت ہو اور آپ کی کمپنی کا مالک مسئلہ بتانے کے باوجود قادیانیوں سے تجارتی یا دوستانہ تعلق ختم نہ کرے تو ایسے شخص کے ادارے میں ملازمت سے اجتناب کرنا چاہیے، فساق و فجار سے اعلانیہ میل جول رکھنے والوں کی مجالس میں رہنے اور ان سے تعلق رکھنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے، گو الیکٹریشن کے کام کی تنخواہ حلال ہوگی، تاہم ایسی صورت میں بھی متبادل ملازمت تلاش کرلینی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں