بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

موبائل ایپلیکیشن میں قادیانی کے دعوی نبوت کی تصدیق کے آپشن پر کلک کرنے سے ایمان کا حکم


سوال

میں نے ایک ایپ انسٹال کی تھی جو کہ رشتہ اور شادی کے حوالے سے تھی اوروہ قادیانیوں کی ایپ تھی اور یہ بات مجھے پتہ بھی تھی،انسٹال کرنے کے بعد جب میں نے اس کو کھولا تو اس میں ایک سوال تھا کہ کیا آپ قادیانی  لعین کو (نعوذ باللہ )نبی مانتے ہیں ؟اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو ایپ آن ہو گی اور اگر نہیں میں ہے تو ایپ آن نہیں ہو گی۔

پہلے تو میرا دل نہیں مانا کہ میں اس کو آن کروں،مگر پھر دل میں یہ خیال آیا کہ دیکھوں تو سہی کہ آگے کیا ہو گا! تو میں نے ہاں کے آپشن کو کلک کر دیا، جب کہ دل میں اس وقت بھی یہی بات اور عقیدہ تھا کہ یہ لعنتی نبی نہیں ہے، جیسے ہی میں نے ہاں کو کلک کیا فوراً دل نے مجھے ملامت کیا کہ یہ تو نے کیا کیا ہے اور میں نے اسی وقت اس کو ان انسٹال کر دیا اور اللہ سے معافی مانگی اور جناب حضرت محمد صلى الله عليه  وسلم پہ درود بھی پڑھتا رہا اور رویا بھی۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ مجھ سے جو یہ گناہ سرزد ہوا ہے اس کا کیا کفارہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے یہ جانتے ہوئے بھی  کہ جناب حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں، اورقادیانی ملعون جھوٹا اور کذاب ہے، اس کے باوجود عمداً اس سوال کے جواب میں کہ کیاآپ  قادیانی کو نبی مانتے ہیں ؟!سائل نے "ہاں "کے آپشن پر کلک کیا اور اس جھوٹ کی تصدیق کی ، تو اس سے ایمان ختم ہوگیا ،اب سائل پراپنے اس فعل پر تجدید ایمان اور توبہ و استغفار لازم ہے، نیز شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدید نکاح بھی ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: من هزل بلفظ كفر) أي تكلم به باختياره غير قاصد معناه، وهذا لاينافي ما مر من أن الإيمان هو التصديق فقط أو مع الإقرار لأن التصديق، وإن كان موجودا حقيقة لكنه زائل حكما لأن الشارع جعل بعض المعاصي أمارة على عدم وجوده كالهزل المذكور، وكما لو سجد لصنم أو وضع مصحفا في قاذورة فإنه يكفر، وإن كان مصدقا لأن ذلك في حكم التكذيب، كما أفاده في شرح العقائد، وأشار إلى ذلك بقوله للاستخفاف، فإن فعل ذلك استخفاف واستهانة بالدين فهو أمارة عدم التصديق ولذا قال في المسايرة: وبالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب، أو بالقلب واللسان في تحقيق الإيمان أمور الإخلال بها إخلال بالإيمان اتفاقا، كترك السجود لصنم، وقتل نبي والاستخفاف به، وبالمصحف والكعبة. وكذا مخالفة أو إنكار ما أجمع عليه بعد العلم به لأن ذلك دليل على أن التصديق مفقود، ثم حقق أن عدم الإخلال بهذه الأمور أحد أجزاء مفهوم الإيمان فهو حينئذ التصديق والإقرار وعدم الإخلال بما ذكر بدليل أن بعض هذه الأمور، تكون مع تحقق التصديق والإقرار، ثم قال ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي - صلى الله عليه وسلم - زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق".

(ج:4، ص:222، ط: دار الفكر-بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100566

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں