بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں کی مصنوعات استعمال کرنے کا حکم


سوال

قادیانیوں کی مصنوعات کا استعمال کرناجائزہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ دینِ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے اہم ترین عقیدہ ’’عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘  ہے،  جس پر ساری دنیا کے مسلمان متفق ہیں، جب کہ قادیانی نہ صرف یہ کہ اس عقیدہ کے منکر ہیں، بلکہ ختمِ نبوت کے مقابلہ میں مرزاقادیانی کو پیغمبر تسلیم کرتے ہیں،ملکی آئین کی رو سےقادیانیوں کو شعائرِ  اسلامی کے استعمال اورقادیانیت کی تبلیغ سے روک دیا گیاہے، لیکن امتناعِ  قادیانیت آرڈیننس منظور ہوجانے کے باوجود منکرینِ ختمِ نبوت قادیانی ،  مرزائی  دنیا بھر میں  آج بھی مختلف چالوں سے مسلمانوں کے ایمان پرمسلمانوں ہی کے کمائے ہوئے پیسوں سے  حملہ آور ہیں۔وہ ایسے کہ قادیانی اپنی آمدن کا دسواں حصہ قادیانیت کی ترویج وتبلیغ پر صرف کرتے ہیں اورکرنے کے پابند بھی ہیں ،اس لیے  ہمیں وہ ذریعہ بند کرنا ہوگا جو ایسے قادیانی اقدامات کو تقویت پہنچا رہا ہے۔

صورتِ  مسئولہ میں قادیانیوں کی مصنوعات استعمال کرنا جائز نہیں،کیوں کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں کو دھوکا  دینے کی کوشش کرتے ہیں،جس سے بسا اوقات ان کے کفریہ عقائد مخفی رہ جاتے ہیں اور ساتھ رہنے والا ان کو حق پر سمجھنے لگتا ہے،جس سے اس کے عقائد کے خراب ہوجانے کا قوی اندیشہ رہتا ہے،اس لیے ان سے زندگی کے ہرمعاملات میں تعلق قائم کرنے سے احتراز ضروری ہے، (گو غیرمسلموں سے دنیاوی معاملات کرنے میں کوئی حرج نہیں،)مگر عام مسلمانوں کے عقیدہ میں خرابی پیدا ہونے کے اندیشے کے سبب ان کا معاملہ غیرمسلموں سے بھی سخت ہے،اس کے علاوہ   قادیانی کمپنیوں کی مصنوعات خریدنے میں ان کے ساتھ تعاون کرنا لازم آتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو قادیانی مصنوعات خریدنے سے احتراز کرنا ضروری ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

" وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ "

"ترجمہ:اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو"

(سورۃ المائدۃ،آیت :2،از بیان القرآن)

الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل (تفسیرِ زمخشری) میں ہے:

"وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِياءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ "(113)

"قرئ: ‌ولا ‌تركنوا، بفتح الكاف وضمها مع فتح التاء. وعن أبى عمرو: بكسر التاء وفتح الكاف، على لغة تميم في كسرهم حروف المضارعة إلا الياء في كل ما كان من باب علم يعلم. ونحوه قراءة من قرأ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ بكسر التاء. وقرأ ابن أبى عبلة: ‌ولا ‌تركنوا، على البناء للمفعول، من أركنه إذا أماله، والنهى متناول للانحطاط في هواهم، والانقطاع إليهم، ومصاحبتهم ومجالستهم وزيارتهم ومداهنتهم، والرضا بأعمالهم، والتشبه بهم، والتزيي بزيهم، ومدّ العين إلى زهرتهم. وذكرهم بما فيه تعظيم لهم."

(سورة هود، رقم الآية:113، ج:2، ص:433، ط:دارالكتاب العربي)

اکفارالملحدین میں ہے:

"وثانيهما ‌إجماع ‌الأمة على تكفير من خالف الدين المعلوم."

(‌‌خاتمة،ص:81،ط:المجلس العلمي)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"المرتد إذا باع أو اشترى يتوقف ذلك إن قتل على ردته أو مات أو ‌لحق ‌بدار ‌الحرب بطل تصرفه وإن أسلم نفذ بيعه."

(‌‌كتاب البيوع،الباب الثاني عشر في أحكام البيع الموقوف وبيع أحد الشريكين، ج:3، ص:154، ط:رشیدیه)

ٖحضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید (رحمہ اللہ ) نے تحفۂ قادیانیت میں لکھا ہے:

"صورتِ مسئولہ میں اس وقت چوں کہ قادیانی کافر محارب اور زندیق ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت نہیں سمجھتےبلکہ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔اس لیے ان کے ساتھ تجارت کرنا خرید و فروخت کرناناجائز و حرام ہے کیوں کہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں۔گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کررہے ہیں ،لہٰذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں۔اسی طرح شادی غمی،کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا عام مسلمانوں کا اختلاط ان کی باتیں سننا،جلسوں میں ان کو شریک کرنا،ملازم رکھنا ان کے ہاں ملازمت کرنا یہ سب کچھ حرام بلکہ دینی حمیت کے خلاف ہےفقط واللہ اعلم۔ "

(قادیانی مسائل،ج:1،ص:696،ط:عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت ۔ملتان )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100825

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں