بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں سے لین دین کا حکم۔


سوال

مجھے یہ معلوم کرناہےکہ جس دفتر میں ملازمت کرتاہوں وہاں پرایک قادیانی بھی کام کرتاہے ابھی وہ عمرہ کرکےآیاہے اوراس نےسب کو مدینہ منورہ کی کھجورتقسیم کی تھی، لیکن میں نے وہ کھجورنہیں لی توکیا میرایہ عمل صحیح ہے جبکہ میں نے اپنےبزرگوں اورعلماء سےیہی سناہے کہ ان سے کسی قسم کا لین دین جائز نہیں ہے

جواب

آپ کا عمل درست ہے، قادیانی مسلمانوں کے لیے مارِ آستین ثابت ہوتےہیں اس لیے ان سےکسی قسم کا لین دین یاتعلق رکھنا ہرگزجائزنہیں ہے نیزقادیانی شرعی احکام اورملکی آئین کی روسےغیرمسلم ہیں ان کاحرمین شریفین جانااورحج وعمرہ ادا کرنا شرعی وقانونی جرم ہےایسےافراد کی تفصیلات سے براہ راست یاعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے واسطےسے متعلقہ محکموں کواطلاع دینی چاہئے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200129

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے