بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں سے بائیکاٹ کا حکم


سوال

قادیانی سے بائیکاٹ کے متعلق احادیث ہے؟

جواب

فرقہ قادیانیت اپنے باطل اور کفریہ عقائد کی بنیاد پر دائرہ اسلام سے خارج ہے،لہذا ان سے کسی قسم کا تجارتی لین دین اور معاشرتی میل جول رکھنا  اور ان کی خوشی وغمی کی تقریبات میں شرکت کرنا جائز نہیں  ہے۔  قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ ان کو توبہ کرانے اور ان کی اصلاح اور ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ اور ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے، اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی نشانی ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد والے ایمان والوں کی ہر زمانہ میں یہ عادت رہی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے بائیکاٹ کرتے رہے،حالاں کہ انہیں دنیاوی طور پر ان لوگوں یا ان کی اشیاء کی حاجت بھی ہوتی تھی، لیکن ایمان والے اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتے ہوئے ان کا بائیکاٹ کیا کرتے تھے۔

شرح سنن ابی داود لابن رسلان میں ہے:

"(عن أبي ذر) جندب بن جنادة -رضي الله عنه- (قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أفضل الأعمال الحب في الله والبغض في الله) وكذا روى الإمام أحمد حديث البراء بن عازب رضي الله عنهما: "أوثق عرى الإيمان الحب في الله والبغض في الله" وفيه ليث بن أبي سليم مختلف فيه، والخرائطي في "مكارم الأخلاق" بسند ضعيف .

فيه دليل على أنه يجب أن يكون للرجل أعداء يبغضهم في الله كما يكون له أصدقاء وإخوان يحبهم في الله، بيانه أنك إذا أحببت إنسانا لأنه مطيع لله ومحبوب عند الله، فإن عصاه فلا بد أن تبغضه؛ لأنه عاص لله وممقوت عند الله، فمن أحب بسبب فبالضرورة يبغض لضده، وهذان وصفان متلازمان لا ينفصل أحدهما عن الآخر، وهو مطرد في الحب والبغض في العادات، ولذلك قال الله تعالى لموسى -عليه السلام-: هل واليت لي وليا، وهل عاديت لي عدوا."

(کتاب السنۃ،باب مجانبۃ أہل الأہواء وبغضہم،ج18،ص85،ط؛دار الفلاح)

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وهكذا كان دأب الصحابة ومن بعدهم من المؤمنين في جميع الأزمان ; فإنهم كانوا يقاطعون من حاد الله ورسوله مع حاجتهم إليه، وآثروا رضا الله تعالى على ذلك."

(باب الحوض والشفاعة، ج8،ص3550،ط؛دار الفكر، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101659

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں