بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قبضۂ امانت اور قبضۂ ضمانت کو ایک وقت میں جمع کرنا جائز نہیں


سوال

 1.میں چاول کا کاروبار کرتا ہوں، ہماری مارکیٹ میں اس طرح کام ہوتا ہے کہ مجھ سے کوئی چاول مانگتا ہے تو میں اس کو کہتا ہوں کے اس طرح کا مال اتنے میں دے دوں گا، وہ کہتا ہے ٹھیک ہے۔ پھر میں اس کے لیے مال اندرون سندھ سے خریدتا ہوں اور جس کو میں نے آگے مال دینے کا کہا ہوتا ہے وہ ہی (شخص) اپنی گاڑی اندرون سندھ بھیج کر چاول اپنے پاس  منگوا لیتا ہے، یعنی میرے سپلائر سے مال براہ راست منگوالیتا ہے اور مال میرے قبضہ میں نہیں آتا۔ کیا اس طرح میرا کام کرنا درست ہے؟ اگر یہ طریقہ درست نہیں ہے تو اس کا متبادل کیا ہوسکتا ہے؟ ایک مفتی صاحب نے مجھے مسئلہ یوں بتایا کہ مذکورہ صورت تو درست نہیں ہے اور اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ میں اپنے خریدار کو اپنی طرف سے قبضہ کا وکیل بناؤں، پھر وہ اپنی گاڑی بھیج کر سندھ سے مال اٹھوالے، پھر جب مال اس کے قبضہ میں آجائے تو میں اس کو فون کرکے یہ کہہ دوں کے یہ مال میں نے آپ کو بیچ دیا اور پھر وہ میری نیابت والے قبضہ سے اپنے قبضہ میں مال لے۔ کیا یہ (جو متبادل طریقہ مجھے بتایا ہے)درست طریقہ ہے؟اگر نہیں تو کیوں؟

2.اگر میں خریدار کو قبضہ کا وکیل نہیں بنا سکتا تو کیا میں اس کے کسی ملازم کو وکیل بناسکتا ہوں؟

جواب

1.صورت مسئولہ میں سائل کا  اندرونِ سندھ سے چاول خرید کر  قبضہ کرنے سے پہلے دوسرے آدمی کو  فروخت  کرنا  پھر اُسی خریدار   کا براہ راست  سائل کے فروخت کنندہ (یعنی پہلے بائع )سے لے کر آنا جب کہ بیچ میں سائل کا قبضہ ہی نہیں  ہوا، یہ جائز نہیں، کیوں کہ بیعقبل القبض  ہونے کی وجہسے مبیع کو اپنے قبضہ  میں لینے سے پہلے آگے فروخت کردینا، یہ جائز نہیں ہے۔ نیز سائل کو  جس نے بھی یہ متبادل طریقہ بتایا ہے، وہ بھی درست نہیں ہے۔ کیوں کہ سائل اگر اپنے خریدار کو قبضہ کا وکیل بنائے تو وہ قبضہ امانت ہوتا ہے ، اور  وہ جب اپنے لیے خریدے گا تو خریدنے میں قبضہ ضمان کی ضرورت ہوتی ہے اور ضمان کا قبضہ تو امانت کے قبضہ کے قائم مقام ہوجاتا ہے، لیکن امانت کا قبضہ ضمان کے قبضہ کے قائم مقام نہیں ہوتا، بلکہ اس میں جدید قبضہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

2.جی ہاں کسی ثالث ( خریدار کے ملازم وغیرہ) کو  وکیل بالقبض بنا کر پھر دوسروں کو فروخت کرنا درست ہوگا، اور یہی متبادل صورت ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

 "وان کانت یدالمشتری ید امانة کید الودیعة والعاریة لایصیر قابضا الا ان یکون بحضرته او یذھب الی حیث یتمکن من قبضه بالتخلی".

 ( کتاب البیوع، ج:5، ص:248، ط:رشیدیه)

وفیہ أیضاً:

"(ومنھا) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نھى عن بيع ما لم يقبض»".

 (کتاب البیوع، ج:5، ص:180، ط:رشیدیه)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

 "ولو کان فی یدہ عاریة أو ودیعة او رھنا لم یصر قابضا بمجرد العقد الا ان یکون بحضرته".

  (کتاب البیوع، ج:3، ص:23، ط:دارالفکر)

تحفۃ الفقہاء میں ہے:

"فأما إذا كان في يد المشتري فباعه المالك منه فنقول: إن كان في يده غصباً يصير قابضاً بنفس الشراء ولا يحتاج إلى تجديد القبض حتى لو هلك قبل أن يتمكن من قبضه حقيقة، فإنه يهلك على المشتري؛ لأن ضمان الغصب ضمان العين نظير ضمان البيع، فيكون من جنسه، فينوب قبض الغصب عن قبض البيع.

ولو باع الراهن المرهون من المرتهن وهو في حبسه لا يصير قابضاً بنفس الشراء ما لم يجدد القبض بأن يمكن من قبضه حقيقة بأن كان حاضراً في مجلس الشراء أو يذهب إلى بيته ويتمكن من قبضه؛ لأن قبض الرهن قبض أمانة، وإنما يسقط الدين بهلاكه لا بكونه مضموناً، ولكن بمعنى آخر عرف في موضعه، وقبض الأمانة لا ينوب عن قبض الشراء، وكذلك إذا كان في يده أمانة مثل الوديعة والعارية والإجارة ونحوها لم يدخل في ضمان المشتري إلا أن يتمكن من قبض جديد؛ لأن قبض الأمانة لا ينوب عن قبض الضمان".

(كتاب البيوع، باب الشراء والبيع، ج:2، ص:43، ط:دار الكتب العلمية ۔ بيروت)

مجمع الأنهر فی شرح ملتقى الأبحر ميں ہے:

"لاينوب قبض الرهن عن قبض الشراء؛ لأنه قبض أمانة فلاينوب عن قبض الضمان وإذا كان ملكه فمات كان عليه كفنه".

(كتاب الرهن، ج:2، ص:587، ط:المطبعة العامرة - تركيا)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:

"أما إذا اختلف القبضان، بأن كان أحدهما قبض أمانة، والآخر قبض ضمان، فينظر: إن القبض السابق أقوى من المستحق، بأن كان السابق قبض ضمان والمستحق قبض أمانة، فينوب عنه؛ لأن به يوجد القبض المستحق وزيادة، وإن كان دونه، فلا ينوب عنه وذلك لانعدام القبض المحتاج إليه، إذا لم يوجد فيه إلا بعض المستحق، فلاينوب عن كله.

أما إذا كان المبيع في يد المشتري بعارية أو وديعة أو رهن، فلا ينوب القبض الأول عن الثاني، ولا يصير المشتري قابضا بمجرد العقد، لأن القبض السابق قبض أمانة، فلا يقوم مقام قبض الضمان في البيع، لعدم وجود القبض المحتاج إليه".

(ج:32، ص:276/277، ط:دار المطابع مصر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100437

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں