بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں سلام کرنے، فاتحہ خوانی اور تعزیت کا مسنون طریقہ


سوال

قبرستان میں سلام پیش کرنے اور دعا کرنے کا مسنون طریقہ کیاہے؟ فاتحہ خوانی سے کیا مراد ہے اور اس کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ تعزیت کرنے کامسنون طریقہ کیا ہے؟

جواب

۱)قبرستان میں داخل ہونے کی دعا کے مختلف الفاظ اور صیغے احادیث میں وارد ہیں، ان میں سے ایک روایت کے مطابق دعا کے الفاظ مندرجہ ذیل ہے:

"ترمذی شریف"  کی روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ کے قبرستان سے گزرے تو قبروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :

"السَّلَامُ عَلَيْکُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَکُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ."

(ترجمہ) اے قبر والو تم پر سلام ہو! اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے پہنچے ہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔

۲)  شریعتِ  مطہرہ میں فاتحہ خوانی (ایصال ثواب) کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں ہے، جو شخص جس وقت جس دن چاہے، کوئی بھی نفلی عبادت کر کے اُس کا ثواب میت کو بخش سکتا ہے۔ مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے اعزہ و اقارب کا نفسِ قرآن کریم پڑھنااور میت کے لیے دعا کرنا جائز ہے، لیکن مروجہ طریقہ پر  باقاعدہ دن متعین کرکے اجتماعی طور پر تعزیت کے لیے جمع ہونا اور  اجتماعی قرآن خوانی کرنا، جس میں میت کے یہاں کھانے پینے کا التزام ہو اور لوگوں کو باقاعدہ دعوت دے کر جمع کرنا، نہ آنے والوں سے ناراضی کا اظہار کرنا  اور ان سب باتوں کو باعثِ ثواب اور شریعت کا حصہ سمجھنا بدعت ہے اور ناجائز وممنوع ہے، ایک مزید خرابی اس میں یہ بھی ہے کہ تعزیت کے لیے آنے والوں کو اہلِ میت کے یہاں ضیافت و دعوت بھی نہیں کھانی چاہیے، کیوں کہ دعوت کا کھانا تو خوشی کے موقع پر مشروع ہے نہ کہ غم کے موقع پر، اسی لیے فقہاء نے تعزیت کے موقع پر کھانے کی دعوت کو مکروہ اور بدعتِ مستقبحہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح ایصالِ ثواب کی قرآن خوانی کے عوض اجرت لینا یا کھانا کھانا بھی جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (قوله: وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم»، حسنه الترمذي وصححه الحاكم، ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل، لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت. 

وقال أيضاً: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل: أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاماً للفقراء كان حسناً اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها؛ لأنهم لايريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. وبحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه: «أنه عليه الصلاة والسلام دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء وجيء بالطعام» . أقول: وفيه نظر، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جرير، على أنه بحث في المنقول في مذهبنا ومذهب غيرنا كالشافعية والحنابلة استدلالاً بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالباً من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي توجد في الأفراح، وكدق الطبول، والغناء بالأصوات الحسان، واجتماع النساء والمردان، وأخذ الأجرة على الذكر وقراءة القرآن، وغير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان، وما كان كذلك فلا شك في حرمته وبطلان الوصية به، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم". 

(کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة،ج:۲ ؍ ۲۴۰ ، ط: سعید)

۳)تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد   میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے،  ان کے  اور  میت کے  حق  میں  دعائیہ جملے کہے،   تعزیت کے  الفاظ اور  مضمون متعین نہیں ہے، صبر  اور  تسلی کے لیے جو  الفاظ زیادہ موزوں ہوں  وہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعا یہ ہے:

"إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَهٗ مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى"یا   "أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَكَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَكَ وَ غَفَرَ لِمَیِّتِكَ."

اس سے  زائد بھی ایسا مضمون بیان کیا جاسکتا ہے جس سے غم ہلکا ہوسکے اور آخرت کی فکر پیدا ہو۔

ملحوظ رہے تعزیت کے دوران ہر آنے والے کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے لیے کوئی دعا مخصوص ہے، اس لیے اس کو لازم سمجھ کر کرنا درست نہیں ہے، البتہ لازم سمجھے بغیر مغفرت کی کوئی بھی دعا کی جائے یا کبھی ہاتھ اٹھا کر دعا کرلی  تو کوئی حرج نہیں ہے۔

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ وفات سے تین دن کے اندر اندر تعزیت کرلینی چاہیے، اس کے بعد تعزیت پسندیدہ نہیں ہے، الا یہ کہ کسی عذر کی وجہ سے تین دن کے اندر نہ کرسکے تو اس کے بعد بھی تعزیت کی جاسکتی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويستحب أن يقال لصاحب التعزية: غفر الله تعالى لميتك و تجاوز عنه وتغمده برحمته ورزقك الصبر على مصيبته وآجرك على موته، كذا في المضمرات ناقلا عن الحجة.

وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنّ لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى»، ويقال في تعزية المسلم بالكافر: "أعظم الله أجرك وأحسن عزاءك" وفي تعزية الكافر بالمسلم: "أحسن الله عزاءك وغفر لميتك" ولا يقال: "أعظم الله أجرك"، وفي تعزية الكافر بالكافر: "أخلف الله عليك ولا نقص عددك"، كذا في السراج الوهاج."

(الباب الحادى والعشرون فى الجنائز، مسائل التعزية، ج:1، ص:167، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144205200634

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں