بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قبر پر چادر چڑھانا


سوال

میرے ایک عزیز کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے کچھ عرصہ بعد ان کی قبر پر چادرڈال  دی ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ شریعت مطھرہ کیا کہتی ہے اور کیا اس چادر کوہٹادینا بہتر رےگا۔

جواب

 قبروں پر چادر چڑھانا سلفِ صالحین سے کسی بھی زمانہ میں ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ  بدعت ہے، لہذا قبروں پر چادر چڑھانا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، لہذا چادر ڈالنے والے کو چاہیے کہ قبر سے چادرکو ہٹا دے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في فتاوى الحجة: وتكره الستور على القبور."

(فصل في اللبس، ج:6، ص:363، ط:ايچ ايم سعيد)

معارف السنن میں ہے:

"اتفق الخطابي و الطرطوشي و القاضي عیاض علی المنع، وقولہم أولیٰ بالاتباع حیث أصبح مثل تلك المسامحات والتعللات مثاراً للبدع المنکرۃ و الفتن السائرۃ، فتری العامة یلقون الزهور علی القبور ..." الخ

(معارف السنن، کتاب الطهارۃ، باب التشدید في البول، ج:، ص:265، ط:اي ايم سعيد)

حدیث شریف میں ہے:

"قال رسول اللہ ﷺ … وشرّ الأمور محدثاتھا وکل بدعة ضلالة."

(مسند أحمد بن حنبل، رقم الحدیث: ۱۴۳۸۶، ج:3، ص:310، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144507100176

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں