بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

قبر میں جزاء یا سزا کا عمل کب شروع ہوتا ہے؟


سوال

اس دنیا میں جو مرجاتا ہے تو منکر نکیر اس سے سوال جواب کرتے ہیں اس میں تو کوئی شک نہیں، لیکن میرے ذہن میں ایک سوال ہے کہ منکر نکیر کے سوال جواب کے بعد جس کے اچھے یا برے اعمال ہیں، تو ان کی جزا یا سزا شروع ہوجاتی ہے یا قیامت کے دن ہوگی؟ اور اگر قیامت کے دن ہوگی تو وہ مرنے کے بعد کہاں جاتے ہیں؟

جواب

موت کے بعد میت (یعنی مرنے والے) کے ساتھ جو حالات پیش آتے ہیں انہیں احوالِ برزخ کہا جاتا ہے، اور انسان کے مرنے کے بعد برزخ میں سوالات جوابات کے بعد اچھے اعمال ہونے کی صورت میں جزا اور برے اعمال ہونے کی صورت میں سزا کا عمل شروع ہوجاتا ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

"حضرت براء بن عازب  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی انصاری آدمی کے جنازہ میں نکلے، پس ہم قبر پر جا پہنچے جو ابھی لحد نہیں بنائی گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ وہاں بیٹھ گئے اور آپ کے اردگرد ہم بھی (ادب کے ساتھ خاموشی سے) بیٹھ گئے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین پر کرید رہے تھے، آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا کہ اللہ کی پناہ مانگو عذابِ قبر سے۔

آگے روایت میں ہے کہ پھر مرنے والے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں، "کہ تیرا رب کون ہے؟"  وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "تیرا دین کیا ہے؟" وہ کہتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے، وہ دونوں کہتے ہیں کہ "یہ کون صاحب ہیں جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے؟" وہ کہتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، وہ دونوں کہتے ہیں کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ پھر (اللہ کی طرف سے) ایک آواز لگانے والا آواز لگاتا ہے کہ میرے بندہ نے سچ کہا، پس اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اور اس کے لیے جنت میں ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کے کپڑے پہنا دو، فرمایا کہ جنت کی ہوا اور خوشبو اس کے پاس آتی ہیں اور اس کی قبر حدِ نگاہ تک کشادہ کردی جاتی ہے۔

اور فرمایا کہ کافر جب مرتا ہے اس کی روح کو جسم میں لوٹایا جاتا ہے۔ اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، اسے بٹھلاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ ہائے ہائے میں نہیں جانتا، وہ کہتے ہیں کہ یہ آدمی کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پس آسمان سے ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا، اس کے لیے آگ کا بستر بچھا دو، اور آگ کا لباس پہنادو اور جہنم کا ایک دروازہ اس کی قبر میں کھول دو، فرمایا کہ جہنم کی گرمی اور گرم ہوا اس کے پاس آتی ہے اور اس کی قبر اس قدر تنگ کردی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوجاتی ہیں۔

جریر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اس پر ایک اندھا بہرا فرشتہ (یعنی جو کسی کی فریاد نہیں سنتا) مقرر کردیا جاتا ہے، اس کے پاس ایک لوہے کا ایک ایسا گرز ہوتا ہے کہ جو اگر پہاڑ پر دے مارا جائے تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائے، فرمایا کہ وہ گرز سے اس مردے کو مارتا ہے اس کی مار کی آواز سے مشرق ومغرب کے درمیان ہر چیز سنتی ہے سوائے جن وانس کے، اور وہ مردہ بھی مٹی ہو جاتا ہے، پھر اس میں روح دوبارہ ڈال دی جاتی ہے۔"

(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی المسئلۃ فی القبر وعذاب القبر، ج:4، ص:239، ط:المکتبۃ العصریۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200208

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں