بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قبول اسلام کے لیے کلمہ پڑھنا ضروری ہے یا صرف توحید،رسالت کا ماننا اور تثلیث سے انکار کافی ہے؟


سوال

میں نے  ایک عیسائی لڑکی کو اسلام کی دعوت دی ،  اب وہ اس بات کو مانتی ہے کہ اللہ ایک ہے ،محمد صلی اللہ و علیہ والہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں، اور عیسی علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں بیٹے نہیں، میں اس سے کہتا ہوں: تم کلمہ شہادت پڑھ لو  اور مسلمان ہو جاؤ! مگر وہ کہتی ہے میں جب پاکستان آؤں گی، پھر کلمہ پڑھوں گی ۔

اب مجھے یہ بتائیں کہ اس کا یہ ماننا کہ اللہ ایک ہے، محمد صلی اللہ و علیہ والہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں، اور عیسی  علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہیں بلکہ  رسول ہیں ،یہ کافی ہے مسلمان ہونے کیلئے یا کلمہ شہادت پڑھنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی  بھی غیر مسلم  اگر دین اسلام کو قبول کرنا چاہے تو اس کے لیے زبان سے اقرار(اقرار باللسان) اور دل سے تصدیق (تصدیق بالقلب) دونوں ضروری ہے، کیوں کہ دل کی تصدیق کا علم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں ہوتالہذا  کسی بھی غیر مسلم پر  ضروری ہے،کہ سابقہ مذہب سے توبہ کرے، کلمہ شہادت زبان سے پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہوتاکہ اس  دنیا میں اس پر دین و اسلام کے احکام جاری ہو۔

لہذا مذکورہ لڑکی   جب یہ تمام باتیں مانتی ہے، تو اب ان تمام باتوں کا  زبان سے اقرار کرنا بھی ضروری ہے،صرف ماننا کافی نہ ہوگا، بلکہ  جب تک وہ اقرار نہیں کرے گی ،تب تک  وہ مسلمان بھی  نہیں کہلاۓ گی۔

قرآن کریم میں ہے:

"قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ."[ البقرة: 136]

ترجمہ:" کہ دو ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو ہمارے پاس  بھیجا گیا، اور اس پر بھی جو حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام اور  اولاد یعقوب کی طرف بھیجا گیا،  اور اس پر بھی جو حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہما السلام  دیا گیا اور اس پر بھی جو کچھ انبیا علیہم السلام کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے، اس کیفیت سے کہ ہم ان میں سے کسی  ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالی کے مطیع ہیں۔" (بیان القرآن)

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌بني ‌الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان)."

(كتاب الإيمان،باب الإيمان،12/1،ط:دار ابن كثير، دار اليمامة)

متن العقيدہ الطحاو یہ میں ہے:

"والإيمان هو الإقرار باللسان والتصديق بالجنان،وان  جميع ما انزل الله في القرآن وجميع ما صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من الشرع والبيان كله حق."

(ص:14/15، رقم 62/63، مکتبة البشرى/1440)

شرح العقائد النسفيه ميں هے:

"ان الإ يمان في الشرع: هو التصديق بما جاء به النبي من عند الله تعالي اي تصديق النبي صلى الله عليه وسلم بالقلب في جميع ما علم بالضرورة مجيئه به من عند الله تعالىاجمالا ..... والاقرار به اي باللسان ."

(الايمان، ص:302/303، ط: مكتبة البشرى/1440) 

«موسوعة الفرق المنتسبة للإسلام - الدرر السنية میں ہے:

"ويقول ملا علي القارئ الحنفي: " الإقرار شرط إجراء الأحكام وهو مختار الأشاعرة ".ثم قال: " وذهب جمهور المحققين إلى ‌أن ‌الإيمان ‌هو ‌التصديق ‌بالقلب، ‌وإنما ‌الإقرار شرط لإجراء الأحكام في الدنيا، لما أن تصديق القلب أمر باطني لا بد له من علامة، فمن صدق بقلبه ولم يقر بلسانه فهو مؤمن عند الله تعالى ، وإن لم يكن مؤمنا في أحكام الدنيا. ومن أقر بلسانه ولم يصدق بقلبه كالمنافق، فهو بالعكس، وهذا اختيار الشيخ أبي منصور الماتريدي رحمه الله."

(الباب الرابع،الفصل الاول،‌‌المبحث الخامس عشر،85/3، ط:موقع الدرر السنية)

الفقہ الاکبر میں ہے:

"أصل التوحيد وما يصح الاعتقاد عليه يجب ان يقول آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله  والبعث بعد الموت والقدر خيره وشره من الله تعالى  والحساب والميزانوالجنة والنار وذلك كله حق."

(اصول الايمان، ص: 13-5، ط:مكتبة الفرقان - الإمارات العربية/1419)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144411101504

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں