بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قبر پرستی کا حکم


سوال

قبر پرستی کیسی ہے؟

جواب

قبر پرستی  جائز نہیں  ہے؛ کیوں  کہ  اِس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ  اللہ تبارک وتعالی کے ساتھ عبادت میں یا مانگنے میں کسی کو شریک ٹھہرارہا ہے جو  کہ شرک ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر پر بھی میلہ لگانے سے سخت منع فرمایا ہےکہ کہیں ایسا کرتے کرتے یہ نوبت نہ آجاۓ کہ لوگ شرک میں مبتلا ہوجائیں۔

"وعنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لاتجعلوا بيوتكم قبوراً، و لاتجعلوا قبري عيداً، و صلّوا علي، فإنّ صلاتكم تبلغني حيث كنتم." رواه النسائي."

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:

("و لاتجعلوا قبري عيداً"): هو واحد الأعياد، أي: لاتجعلوا زيارة قبري عيداً، أو لاتجعلوا قبري مظهر عيد، فإنه يوم لهو وسرور، و حال الزيارة خلاف ذلك، و قيل: محتمل أن يكون المراد الحث على كثرة زيارته، و لايجعل كالعيد الذي لايأتي في العام إلا مرتين. قال الطيبي: نهاهم عن الاجتماع لها اجتماعهم للعيد نزهةً وزينةً، و كانت اليهود و النصارى تفعل ذلك بقبور أنبيائهم، فأورثهم الغفلة و القسوة، و من عادة عبدة الأوثان أنهم لايزالون يعظمون أمواتهم حتى اتخذوها أصناماً، و إلى هذا أشار لقوله: " اللّٰهم لاتجعل قبري وثناً يعبد"، فيكون المقصود من النهي كراهة أن يتجاوزوا في قبره غاية التجاوز، و لهذا ورد: "اشتدّ غضب الله على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں