بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو القعدة 1441ھ- 08 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

قبر پر قرآن مجید کی آیات لکھنا


سوال

قبرپرآیت لکھنا کیسا ہے؟

جواب

قبر  کی  اندر دیواروں  پر یا سلیب پر  یا قبر پر لگے کتبہ پر آیات لکھنا  شریعت سے ثابت نہیں ہے، اگر کوئی ان جگہوں پر  آیات اس طرح لکھے کہ حروف کے نشانات بھی ظاہر ہوں، اور آیات واضح ہوں  تو  یہ درست نہیں ہے، اس میں قرآن مجید کی آیات کی بے حرمتی کا اندیشہ ہے، البتہ  اگر  کوئی بغیر سیاہی کے انگلی کے اشارے سے اس طرح لکھے  کہ دیوار  یا سلیب پر حروف کا نشان نہ ہو تو  اس میں حرج نہیں ہے۔

فتاوی رحیمیہ میں مفتی عبدالرحیم لاجپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’کوئی خاص ضرورت ہو ،مثلاً: قبر کا نشان باقی رہے، قبر کی بے حرمتی اور توہین نہ ہو،لوگ اسے پامال نہ کریں، اس ضرورت کے پیش نظر قبر پر حسبِ ضرورت نام اور تاریخ وفات لکھنے کی گنجائش ہے، ضرورت سے زائد لکھناجائز نہیں۔اور قرآنِ پاک کی آیت اور کلمہ وغیرہ تو ہرگز نہ لکھاجائے‘‘۔ (فتاوی رحیمیہ  7/140،ط: دارالاشاعت  - احکام میت ،باب چہارم ، ص: 157، ط:ادارۃ الفاروق ) 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 246):
"تكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة، فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت، فتأمل، نعم نقل بعض المحشين عن فوائد الشرجي أن مما يكتب على جبهة الميت بغير مداد بالأصبع المسبحة -بسم الله الرحمن الرحيم- وعلى الصدر لا إله إلا الله محمد رسول الله، وذلك بعد الغسل قبل التكفين اهـ والله أعلم
". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201400

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں