بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

قبر پر ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنے کا حکم


سوال

 کیا والدین اور عزیزو اقارب کی قبروں پر ایصال ثواب کی نیت سے ہاتھ اٹھا کر دُعا کرنا جائز عمل ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ قبرستان میں میت کے لئے  ایصال ِثواب کرکے مغفرت کی دعا کرنا اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا جائز ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور سنت سے ثابت ہے ؛البتہ میت کو دفن کرنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف  رخ کر کے دعا مانگی تھی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة كذا في خزانة الفتاوى."

(کتاب الکراہیۃ،الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور،ج:۵،ص:۳۵۰،دارالفکر)

فتح الباری میں ہے :

"وفي حديث بن مسعود" رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي النجادين" الحديث وفيه: فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه."

(باب الدعاء مستقبل القبلۃ،ج:۱۱،ص:۱۴۴،دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100593

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں