بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

قالین پر پیشاب کا قطرہ گرجائےتوکس طرح قالین پاک کیا جائے؟


سوال

 کمرے میں بڑا  قالین ہے، اس پر پیشاب کا صرف ایک ہلکا سا قطرہ گر کر خشک ہو گیا ہے۔ قالین کو نکال کر دھونا بہت مشکل ہے، کیوں کہ بہت سا سامان اوپر پڑا ہے،کیا یہ ایک قطرہ معاف ہے یا گیلے پاؤں وغیرہ سے  قالین پرنجاست مزید پھیل سکتی ہے ؟

جواب

نجاست سے کسی چیز کو پاک کرنے میں اصل نجاست کا ازالہ (زائل کرنا) ہے، اور مختلف اشیاء میں نجاست کے ازالے کے مختلف طریقے فقہاءِ کرام نے لکھے ہیں، نیز  جس طرح نجاست  کا ازالہ  پانی سے  ہوتا ہے،  اسی طرح دیگر مائع اشیاء سے بھی اگر نجاست زائل ہوجائے تو  اس چیز کی پاکی کا حکم لگایا جاتاہے۔ لہٰذا اگر  قالین اتنا  بڑا  ہے  کہ اس کو  اٹھانے میں مشقت اور حرج ہے تو اسے پاک کرنے کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ کسی مائع کیمیکل/ پیٹرول وغیرہ سے اس ناپاک جگہ کو  اچھی طرح صاف کرکے  خشک کیا جائے،  یہاں تک کہ نجاست دور ہوجائے اور اطمینان   بھی ہوجائےتو   قالین پاک ہوجائے گا۔

قالین  پر ناپاکی کا قطرہ لگ کر خشک ہوجائے   اور اس پر  گیلے پاؤں سے چلیں تو  پاؤں ناپاک نہیں ہوں گے  جب تک کہ نجاست کا  اثر پاؤں میں  ظاہر نہ ہو۔  

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس."

(کتاب الطهارۃ، الباب السابع، الفصل الثالث، ج:1، ص:42، ط:دار الفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے

"و غسل و مسح و الجفاف مطهر"

(کتاب الطھارۃ، باب الأنجاس، ج:1، ص:315، ط: دار الفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: مشى في حمام ونحوه) أي: ‌كما ‌لو ‌مشى ‌على ‌ألواح ‌مشرعة بعد مشي من برجله قذر لا يحكم بنجاسة رجله ما لم يعلم أنه وضع رجله على موضعه للضرورة فتح. وفيه عن التنجيس: مشى في طين أو أصابه ولم يغسله وصلى تجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة؛ لأنه المانع إلا أن يحتاط، وأما في الحكم فلا يجب."

( کتاب الطھارۃ، باب الأنجاس، ج: 1، ص: 350، ط : دار الفکر )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144510100618

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں