بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1444ھ 25 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

پورا قرآن پڑھنے کا حکم


سوال

مسلمان کے  لیے قرآنِ  مجید پڑھنے کا حکم کیا ہے؟  اگر کوئی مسلمان قرآنِ  کریم پڑھے بغیر فوت ہو جائے تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟

جواب

 قرآن کریم کتاب اللہ ہونے کے ساتھ ساتھ شعائر اسلام میں سے بھی ہے، جس کی تعظیم کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر مسلمان اس  کو پڑھے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے احکامات پر عمل کرے، حدیث شریف میں قرآنِ پاک سیکھنے اور سیکھانے والے کو بہترین لوگوں میں شمار کیاگیا ہے۔

بصورتِ مسئولہ زندگی میں ایک بار پورا قرآن پڑھنا فرضِ کفایہ ہے،  اگر کوئی شخص اسلام کے دیگر تمام احکام پر عمل کرتے ہوئے پورا قرآن پڑھے بغیر انتقال کرجاتا ہے تو  وہ  مذکورہ  ثواب  سے محروم رہےگا،  تاہم اس کی وجہ سے گناہ گار نہ ہوگا، ملحوظ رہے ہر مسلمان پر قرآن مجید کا اتناحصہ سیکھنافرض عین ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی نماز ادا کرسکے، لہذا اگر کسی شخص کو  قرآن کا اتنا حصہ بھی یاد نہیں ہے جس کے ذریعے نماز کی ادائیگی ہو تو ظاہر ہے نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔

حجة الله البالغة  میں ہے:

"و معظم شعار الله أربعة: القرآن، والكعبة، والنبي، والصلاة. أما القرآن فكان الناس شاع فيما بينهم رسائل الملوك إلى رعاياهم، وكان تعظيمهم للملوك مساوقا لتعظيمهم للرسائل، وشاع صحف الأنبياء ومصنفات غيرهم، وكان تمذهبهم لمذاهبهم مساوقا لتعظيم تلك الكتب وتلاوتها، وكان الانقياد للعلوم وتلقيها على مر الدهور بدون كتاب يتلى، ويروى، كالمحال بادي الرأي، فاستوجب الناس عند ذلك أن تظهر رحمة الله في صورة كتاب نازل من رب العالمين، ووجب تعظيمه، فمنه أن يستمعوا له، وينصتوا إذا قرئ، ومنه أن يبادروا لأوامره كسجدة التلاوة وكالتسبيح عند الأمر بذلك، ومنه ألا يمسوا المصحف إلا على وضوء."

(باب تعظيم شعائر الله تعالى، ج:1، ص:133، ط:دارالحيل)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"و الحاصل أنه إذا كان خير الكلام كلام الله فكذلك خير الناس بعد النبيين من يتعلم القرآن ويعلمه، لكن لا بد من تقييد التعلم والتعليم بالإخلاص، قال الإمام النووي - رحمه الله - في الفتاوى: تعلم قدر الواجب من القرآن والفقه سواء في الفضل، وأما الزيادة على الواجب فالفقه أفضل اهـ وفيما قاله نظر ظاهر مع قطع النظر عن إساءة الإطلاق لأن تعلم قدر الواجب من القرآن علم يقيني ومن الفقه ظني، فكيف يكونان في الفضل سواء والفقه إنما يكون أفضل لكونه معنى القرآن فلا يقابل به، نعم لا شك أن معرفة معنى القرآن أفضل من معرفة لفظه وأن المراد بالقدر الواجب من القرآن تعلم سورة الفاتحة مثلا فإنه ركن على مذهبه وبالفقه معرفة كون الركوع ركنا مثلا فلا يستويان أيضا من وجوه. والله أعلم ."

(كتاب فضائل القرآن، ج:4، ص:1453، ط:دارالفكر)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144206200382

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں