بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پب جی گیم میں بتوں کے سامنے سجدہ کرنے والا آپشن واقعی موجود ہے یا یہ محض افواہ ہے؟


سوال

پب جی کے بارے میں آپ کے ہاں سے فتوی جاری کیا گیا کہ وہاں پر ہیلتھ  لینے کے لیے بتوں کو سجدہ کیا جاتا ہے، لیکن وہاں ایسا کوئی عمل نہیں ہے، گزارش ہے کہ اس پر اور انفارمیشن لی جائے!

جواب

پب جی گیم سے متعلق فتوی (جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ اس گیم میں پاور، انرجی یا ہیلتھ وغیرہ حاصل کرنے کے لئے بتوں کے سامنے جھکنا پڑتا ہے) ہماری ویب سائٹ سے جون کے مہینے میں پبلش ہوا تھا، سوال موصول ہونے کے بعد، جواب جاری کرنے سے پہلے ان ہی دنوں میں اس کی حقیقت کو بھی جانچا گیا اور مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کی گئیں، اور اس تحقیق کی روشنی میں شرعی اصول و اَحکام کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے فتویٰ جاری کیا گیا،  تحقیق  کے نتیجے میں بات بھی سامنے آئی کہ  کچھ عرصہ قبل اس گیم کے بنانے والوں نے اس کے sanhok نامی نقشے (map) میں ایک نیا موڈ mysterious jungle mode کے نام سے متعارف کرایا ہے جس میں انرجی حاصل کرنے کے لیے بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر سر جھکانا پڑتا ہے، جیساکہ ہندؤوں اور بعض دیگر مشرکین کے ہاں بت کی پوجا کا ایک طریقہ ہے، تاہم گیم میں ایسا کرنا لازم نہیں ہے، یعنی پلیئر انرجی حاصل کیے بغیر بھی گیم جاری رکھ سکتا ہے، اگرچہ اس کے بغیر اس کی کارکردگی متاثر ہونے کا قوی امکان ہوتا  ہے۔ اس تحقیق کے بعد یہ حکم لکھا گیا اگر کوئی انرجی کے حصول کے لیے جان بوجھ کر بت کے سامنے جھکے وہ شرک کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے دائرۂ اسلام  سے خارج ہے اور اس پر تجدیدِ ایمان لازم ہے اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدید نکاح بھی لازم ہے۔ 

اس فتوے کے مضمون کو غور سے نہ پڑھنے کی وجہ سے آپ کی طرح بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ اس  میں مذکورہ گیم کھیلنے والوں کو مطلقاً دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے، حال آں کہ صرف بت کے سامنے پلیئر کو جھکانے کے عمل کو شرک ہونے کی وجہ سے کفر  قرار دیا گیا ہے، اگر کوئی پب جی کھیلنے کے لیے سانہاک (sanhok) نامی نقشہ (map) نہ چنے یا  یہ نقشہ (map) ہی چنے، لیکن بت کے سامنے نہ جھکے تو اسے کافر قرار نہیں دیا گیا۔ 

نیز مزید اطلاعات یہ بھی حاصل ہوئیں کہ مسلمانوں کے احتجاج اور بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے گیم سے یہ نقشہ (map) ہٹادیا گیا ہے، اس وجہ سے بہت سے  لوگوں کا خیال ہے کہ جب یہ  عمل  اس گیم کے اندر ہے ہی نہیں یا اگر تھا تو ہٹادیا گیا ہے، پھر کیسے تحقیق کیے بغیر دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا فتوی دیا گیا؟ تو اس کا جواب شروع میں دیا گیا کہ یہ سوال وجواب جون کے مہینہ کا ہے جب یہ عمل اس میں موجود تھا۔  اور اس سوال کے مستفتی کا سوال اس وقت کے مطابق درست اور جواب بھی اسی کے مطابق تھا۔

چوں کہ اس بات کا امکان بہر حال موجود ہے کہ بہت سے مسلمانوں نے اس گیم کے سانہاک نقشے میں بتوں کے سامنے اپنے پلیئر کو جھکایا ہوگا، اس لیے مسلمانوں کا ایمان بچانے کے لیے اس کی نشان دہی کی گئی، تاکہ غفلت میں شرکیہ عمل کرنے والے توبہ کرکے ایمان کی تجدید کرلیں، اور اگر آئندہ کبھی کسی گیم میں ایسی چیز آئے تو مسلمانانِ عالم اپنے آپ کو اس طرح کے شرکیہ اعمال سے دور رکھیں۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

پب جی گیم میں شرک کیوں لازم آتا ہے؟

پب جی گیم میں شرکیہ عمل نہیں پایا جاتا تو کفر کا فتوی کیسے دے دیا گیا؟


فتوی نمبر : 144203200197

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں