بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پب جی گیم کھیلنا


سوال

گزشتہ دنوں پبجی گیم کھیلنے کو ناجائز قرار دیا گیا تھا جس کی وجہ بتوں کی پوجا کرنا تھا، میں اس گیم کو کھیلنے کے حق میں بالکل بھی نہیں وقت کے ضائع ہونے کی وجہ سے، مگر کچھ دوست اور کزنس کے کہنے پہ آپ سے یہ معلوم کرنا چاہ رہا ہوں کہ اس گیم کو کھیلنے والوں سے معلوم ہوا کہ (پب جی گیم میں) پوجا کرنے والا نقشہ کچھ دنوں کے لیے آیا تھا جو کہ اب نہیں اور یہ مسلمانوں کے پر زور احتجاج کی وجہ سے ہی ہٹایا گیا تھا تو کیا اب یہ گیم صرف تفریح کے لیے کھیلنا جائز ہے؟

جواب

پب جی (PUBG) گیم کئی طرح کے شرعی و دیگر مفاسد پر مشتمل ہے، اس کے کھیلنے میں نہ کوئی دینی اور نہ ہی کوئی دنیوی فائدہ ہے، مثلاً جسمانی  ورزش وغیرہ ، یہ محض لہو لعب اور وقت گزاری  کے لیے کھیلی جاتی ہے، جو لایعنی کام ہے، اور  اس کو کھیلنے والے عام طور پر اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پھر انہیں اس کا نشہ سا ہوجاتا ہے، اور ایسا انہماک ہوتا ہے کہ وہ کئی دینی بلکہ دنیوی امور سے بھی غافل ہوجاتے ہیں، شریعت مطہرہ ایسے لایعنی لہو لعب پر مشتمل کھیل کی اجازت نہیں دیتی، جب کہ اس میں مزید شرعی قباحت یہ بھی یہ جان دار کی تصاویر پر مشتمل ہوتی ہے، نیز  مشاہدہ یہ ہے کہ  جو لوگ اس گیم کو بار بار کھیلتے ہیں، ان کا ذہن منفی ہونے لگتا ہے اور گیم کی طرح وہ واقعی دنیا میں بھی ماردھاڑ وغیرہ کے کام سوچتے ہیں، جس کے بہت سے واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں۔  لہذا پب جی اور اس جیسے دیگر  گیم کھیلنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

پب جی گیم سے متعلق تفصیل اور حکم


فتوی نمبر : 144203200193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں