بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پروویڈنٹ، گریجویٹی، تجارتی پلاٹ اور پنشن فنڈ پر زکوۃ


سوال

1 : پرویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

2 : گریجویٹی فنڈ پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

3 : تجارت کی نیت سے رکھے پلاٹ پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

4 : میری تنخواہ سے 10٪ کٹوتی ہوکر میرے پنشن فنڈ میں جاتا ہے جو میں نے اب تک نہیں نکالے ہیں، میں جب چاہوں گا تو نکال لوں گا، اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

1 : پروویڈنٹ کی مروجہ صورتوں میں گزشتہ سالوں کی زکوۃ لازم نہیں ہوگی، البتہ جب مذکورہ پیسے وصول کر لیے جائیں اور سال پورا ہونے کے وقت ان میں سے ضرورت سے زائد رقم نصاب تک پہنچے تو اس کی زکوۃ ادا کرنا ہوگی۔

 مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کریں۔

2 : اگر گریجویٹی  کی رقم نصاب کے بقدر ہو تو  یہ رقم ملتے ہی آدمی صاحبِ نصاب بن جائے گا (بشرطیکہ اتنا قرض ذمے میں نہ ہو جو صاحبِ نصاب بننے سے مانع ہو)، اور اس رقم  کے ملنے پر جب سال گزرجائے اور یہ رقم موجود ہو تو اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکاۃ واجب ہوگی۔

 مزید تفصیل یہاں دیکھیں

3 : ایسے پلاٹ کی قیمتِ فروخت کا اعتبار کرکے اس کی زکوۃ نکالیں گے۔

4 :صورتِ  مسئولہ میں پنشن فنڈ وصول ہونے کے بعد اس کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی، اس سے پہلے نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200925

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں