بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پراویڈنٹ فنڈ سے ملنے والی رقم کا حکم


سوال

جناب عرض یہ کرنی ہے کہ ہماری کمپنی میں اس وقت گریجویٹی کا حساب چلتا ہے یعنی کمپنی جوائن کرنے کی چھ ماہ بعد ایک سیلری آپ کے نام پر مختص کر دی جاتی ہے اور سال پورا ہونے کے بعد ایک سیلری مختص کردی جاتی ہے۔ یعنی پہلے سال دو پھر سالانہ ایک سیلری مختص کی جاتی ہے، جو کہ نوکری چھوڑنے پر آپ کو ادا کردی جاتی ہے، اب یہ سننے میں آرہا ہے کہ کمپنی گریچویٹی کا سلسلہ خضتم کرکے پروایڈنٹ فنڈ شروع کررہی ہے جس میں تنخواہ کا کچھ حصہ مثلاً 8% ہماری تنخواہ سے کٹے گا اور اتنا ہی کمپنی شامل کرے گی اور بینک میں رکھوائے گی جس پر سود وغیرہ لگے گا، تو جناب پوچھنا یہ ہے کہ کیا پروایڈنٹ فنڈ فنڈ جائز ہے ، اگر کمپنی یہ پالیسی لگا دیتی ہے تو کیا اس کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہوگا۔ ؟

جواب

پروایڈنٹ فنڈ کی مد میں تنخواہ سے کی جانے والی کٹوتی کی دو صورتیں رائج ہیں 1: اختیاری 2:۔ جبری۔ اگر آپ کا ادارہ یہ کٹوتی آپ کی مرضی اور اختیار سے کرتا ہے تو اس پر ملنے والی اضافی رقم سود ہے جو آپ کے لیے لینا جائز نہیں ہے اور اگر یہ کٹوتی جبری یعنی آپ کی مرضی کے بغیر ہے تو اس پر کمپنی کی طرف سے ملنے والی اضافی رقم تبرع اور گفٹ کی مد میں ہوگی، سود کا اطلاق اس پر نہیں ہوگا، باقی کمپنی ذمہ داران کا اپنا فعل ہے اس کا گناہ سائل پر نہیں ۔ بہر دو صورت مذکورہ کمپنی میں سائل کی ملازمت جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200521

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے