بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

پراویڈنٹ فنڈ سے ملنے والی رقم کے استعمال کا حکم


سوال

 سرکاری   ملازم   کے  لیے  پراویڈنٹ  فنڈ  سے  ملنے والی رقم کا استعمال کیسا ہے؟  خاص طور پر اس صورت میں جب ملازم درخواست دے کر  اپنے فنڈ کو انٹرسٹ  فری کروا سکتا ہو؟

جواب

سرکاری و نجی اداروں کی طرف سے ملازمین کے لیے پراویڈنٹ فنڈ  کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور اس فنڈ میں شمولیت کے لیے  ملازمین اپنی تنخواہ میں سے کچھ فی صد کٹوتی کرواتے ہیں جو کہ ہر ماہ اس فنڈ میں جمع کرلی جاتی ہے اور ریٹائرمنٹ کے وقت کمپنی جمع شدہ رقم اضافہ کے ساتھ ملازم کو دے دیتی ہے، اس کی چند صورتیں ہیں:

پراویڈنٹ فنڈ کی رائج صورتیں:

1۔ بعض ادارے اپنے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ  بناتے ہیں اور ملازم کو عدمِ شمولیت کا اختیار نہیں  دیتے، جس کی وجہ سے ہر ماہ تنخواہ دینے سے پہلے ہی طے شدہ شرح کے مطابق جبری کٹوتی کرلی جاتی ہے اور بقیہ تنخواہ ملازم کو دے دی جاتی ہے۔

2۔ بعض اداروں کی طرف سے ہر ملازم کے لیے اس فنڈ کا حصہ بننا لازمی نہیں ہوتا ، بلکہ ادارہ اپنے ملازمین کو اختیار  دیتا ہے کہ اپنی مرضی سے جو ملازم اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ اس فنڈ کا حصہ بن سکتا ہے اور ادارہ ملازمین کی اجازت سے ہر ماہ طے شدہ شرح کے مطابق ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے مذکورہ فنڈ میں جمع کرتا رہتاہے۔

3۔ بعض ادارے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بنانے کے ساتھ  ساتھ  ملازمین کو یہ اختیار بھی دیتے ہیں  کہ اگر کوئی ملازم اس فنڈ میں مقررہ شرح سے زیادہ رقم جمع کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے؛ اس قسم کی کٹوتی کو جبری و اختیاری کٹوتی کہا جاتا ہے ۔

مذکورہ صورتوں میں ملنے والے اضافے کا حکم:

1۔ پہلی صورت( جبری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ یہ فنڈ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے لیے تبرع و انعام ہوتا ہے اور ملازمین کے لیے یہ لینا شرعاً جائز ہوتا ہے ۔ احتیاطاً یہ اضافہ نہ لیا جائے تو بہترہے۔

2۔ دوسری  قسم (اختیاری کٹوتی)  کا حکم یہ ہے کہ ملازمین نے اپنی تنخواہوں سے جتنی کٹوتی کرائی ہے اتنی ہی جمع شدہ رقم وہ لے سکتے ہیں، زائد رقم لینا شرعاً   جائز نہیں ہوتا ۔

3۔ تیسری صورت( جبری واختیاری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ جتنی کٹوتی جبراً ہوئی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم ملازم کے لیے لینا شرعاً جائز ہوتا ہے اور جتنی رقم ملازم نے اپنے اختیار سے کٹوائی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم لینا جائز نہیں ہوتا ۔

اگر ادارے یا کمپنی وغیرہ کی طرف سے ملازم کو یہ اختیار دیا جاتا ہو کہ وہ درخواست دے کر اپنے فنڈ کو انٹرسٹ فری کرواسکتا ہے تو اس صورت میں ملازم چاہے درخواست دے کر اپنے فنڈ کو انٹرسٹ فری کروائے یا نہ کروائے، دونوں صورتوں میں حکم وہی رہے گا جو اوپر بیان کیا جاچکا ہے (یعنی جبری کٹوتی پر ملنے والی اضافی رقم لینا جائز ہوگا اور اختیاری کٹوتی پر ملنے والی اضافی رقم لینا جائز نہیں ہوگا)۔ اس  لیے کہ اگر ملازم اپنے فنڈ کو انٹرسٹ فری کروالے تب بھی کمپنی یا ادارہ تو اس رقم پر بینک سے سود بہرحال وصول کرے گا، بس ملازم کو اضافی رقم نہیں دے گا، بلکہ اضافی رقم اپنے پاس رکھ لے گا، لہٰذا ادارے یا کمپنی وغیرہ کا اس رقم کے ذریعہ سود حاصل کرنا تو بہرحال ناجائز اور حرام ہے، لیکن جبری کٹوتی کی صورت میں ملازم کے لیے ادارے کی جانب سے ملنے والی اضافی رقم کی حیثیت تبرع اور انعام ہونے کی وجہ سے وصول کرنا جائز ہے۔   فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200925

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں