بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر سے سب سے پہلے کیوں اٹھایا جائے گا؟


سوال

یہ تو کتبِ احادیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن سب سے پہلے اٹھایا جائے گا، تو اس کی کیا وجہ ہے؟ آئے تو سب سے آخر میں تھے اور اٹھائے سب سے پہلے جائیں گے؟ اس کی وجہ کتبِ احادیث کے حوالے کے ساتھ، کتب کا نام، جلد نمبر، صفحہ نمبر، اور متن کے الفاظ تحریر فرمادیں، عین نوازش ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اگرچہ سب سے آخر میں ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سب سے پہلے عطا کی تھی، یہ محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خصوصیت ہے،اسی طرح  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزِ محشر سب سے پہلے قبر سے اٹھایا جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان گنت خصائص اور فضائل میں سے ایک خصوصیت اور فضیلت ہے، محدثین نے بھی اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل میں شمار کیا ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أنا ‌سيد ‌ولد آدم يوم القيامة وأول من ينشق عنه القبر وأول شافع وأول مشفع." رواه مسلم."

(كتاب الفضائل والشمائل، باب فضائل سيد المرسلين، ج: 3، ص: 1600، ط: المكتب الإسلامي بيروت)

وفي شرحه مرقاة المفاتيح:

"(وأول من ينشق عنه القبر) ، أي: فهو أول من يبعث من قبره ويحضر في المحشر كما رواه الترمذي عن أنس: «أنا أول الناس خروجا إذا بعثوا، وأنا خطيبهم إذا وفدوا، وأنا مبشرهم إذا أيسوا، لواء الحمد يومئذ بيدي، وأنا أكرم ولد آدم على ربي ولا فخر» . وفي رواية للترمذي والحاكم عن ابن عمر «أنا أول من تنشق عنه الأرض، ثم أبو بكر، ثم عمر، ثم آتي أهل البقيع فيحشرون معي، ثم أنتظر أهل مكة» . وفي رواية للترمذي عن أبي هريرة «أنا أول من تنشق عنه الأرض فأكسى حلة من حلل الجنة، ثم أقوم عن يمين العرش ليس أحد من الخلائق يقوم ذلك المقام غيري» (وأول مشفع) أي: في ذلك المحضر، (وأول مشفع) : بتشديد الفاء المفتوحة أي: أول من تقبل شفاعته على الإطلاق في أنواع الشفاعات، وفيه دليل أيضا على أنه - صلى الله عليه وسلم - أفضل المخلوقات وأكمل الموجودات. (رواه مسلم) . وكذا أبو داود، وفي رواية أحمد، والترمذي، وابن ماجه عن أبي سعيد: «أنا ‌سيد ‌ولد آدم يوم القيامة ولا فخر، وأنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر، وبيدي لواء الحمد ولا فخر، وما من نبي يومئذ آدم فمن سواه إلا تحت لوائي، وأنا أول شافع وأول مشفع ولا فخر»."

(كتاب الفضائل، باب فضائل سيد المرسلين، ج: 9، ص: 3672، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144404100041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں